ہمارے بچے ہمارے مستقبل کا روشن ستارہ ہوتے ہیں، اور ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی زندگی کامیابیوں سے بھری ہو۔ مگر کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ انہیں مالی طور پر مضبوط بنانے کے لیے ہمیں کیا سکھانا چاہیے؟ آج کل کی تیز رفتار دنیا میں، جہاں ہر چیز ایک کلک کی دوری پر ہے، بچوں کو پیسے کی قدر اور اسے سمجھداری سے خرچ کرنے کی عادت سکھانا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب بچے چھوٹی عمر سے ہی بچت اور مالی منصوبے بنانا سیکھ لیتے ہیں، تو ان میں خود اعتمادی بڑھتی ہے اور وہ بڑے ہو کر بہتر فیصلے کر پاتے ہیں۔ یہ صرف پیسہ جمع کرنے کا ہنر نہیں، بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں ذمہ داری اور بصیرت پیدا کرنے کا ایک بنیادی سبق ہے۔آج کے دور میں جہاں ڈیجیٹل کرنسی اور آن لائن خریداری ہر طرف عام ہے، ہمارے بچوں کو یہ سمجھانا بہت اہم ہے کہ پیسے کا صحیح استعمال کیسے کیا جائے تاکہ وہ مستقبل میں کسی بھی مشکل کا سامنا بہادری سے کر سکیں۔ کیا آپ بھی پریشان ہیں کہ اپنے بچوں کو یہ اہم سبق کیسے سکھائیں؟ ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ بچوں کو یہ باتیں وقت کے ساتھ خود ہی آ جائیں گی، مگر میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ ہمیں فعال طور پر انہیں رہنمائی دینی چاہیے۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ جب ہم عملی مثالوں کے ساتھ انہیں یہ باتیں بتاتے ہیں، تو وہ زیادہ آسانی سے سیکھتے ہیں اور ان کے ذہن میں ایک واضح تصویر بن جاتی ہے۔ یہ صرف ان کے پیسوں کو محفوظ رکھنے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ انہیں ایک آزاد اور کامیاب مالی زندگی کی طرف گامزن کرنے کا ایک راستہ ہے۔ ہم اپنے بچوں کو کیسے سکھا سکتے ہیں کہ وہ اپنی آمدنی کو کیسے سنبھالیں، بچت کیسے کریں، اور سمجھداری سے سرمایہ کاری کیسے کریں؟ اس بلاگ پوسٹ میں ہم انہی اہم سوالات کے جوابات تلاش کریں گے۔ چلیں، اس دلچسپ اور انتہائی ضروری موضوع پر مزید گہرائی میں بات کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کو مالی طور پر کیسے بااختیار بنا سکتے ہیں۔ آج ہم انہی اہم باتوں کو بالکل ٹھیک ٹھیک معلوم کریں گے۔
بچوں کو پیسوں کی قدر سکھانا: بنیادی اصول

میرے خیال میں، ہمارے بچوں کی مالی تعلیم کا سفر گھر سے ہی شروع ہوتا ہے۔ یہ صرف جیب خرچ دینے یا انہیں اپنی مرضی سے کچھ خریدنے کی اجازت دینے سے کہیں زیادہ ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں چھوٹا تھا، میرے والد صاحب نے مجھے ایک چھوٹا سا گلک دیا تھا اور ہر ہفتے اس میں کچھ پیسے ڈالنے کو کہا۔ اس وقت تو مجھے اس کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا، لیکن اب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو سمجھ آتا ہے کہ وہ مجھے بچت کا پہلا سبق سکھا رہے تھے۔ بچوں کو یہ سمجھانا بہت ضروری ہے کہ پیسہ آسانی سے نہیں آتا، بلکہ یہ محنت اور وقت کا ثمر ہے۔ جب ہم انہیں بتاتے ہیں کہ آپ کے والد یا والدہ کتنی محنت سے یہ پیسے کماتے ہیں، تو ان کے اندر پیسے کی قدر اور احترام پیدا ہوتا ہے۔ انہیں یہ سکھانا کہ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے ہمیں کچھ قربانی دینی پڑتی ہے، ان کی مالی سوچ کی مضبوط بنیاد بناتا ہے۔ یہ انہیں مستقبل میں غیر ضروری اخراجات سے بچنے میں مدد دے گا اور وہ اپنی ضروریات اور خواہشات کے درمیان فرق کر سکیں گے۔
کھیل کے ذریعے مالی تصورات کا تعارف
میں نے اپنے بچوں کے ساتھ اکثر یہ طریقہ آزمایا ہے کہ انہیں کھیل کھیل میں پیسوں کے بارے میں سکھایا جائے۔ مثال کے طور پر، ہم “دوکان دوکان” کھیلتے ہیں جہاں وہ خود دکاندار بنتے ہیں اور چیزوں کی قیمتیں مقرر کرتے ہیں۔ اس سے انہیں قیمتوں، خرید و فروخت اور منافع کا ایک بنیادی تصور ملتا ہے۔ یہ ایک بہترین طریقہ ہے جہاں وہ عملی طور پر یہ سیکھتے ہیں کہ اشیاء کیسے خریدی جاتی ہیں اور پیسوں کا لین دین کیسے ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، بورڈ گیمز جیسے “کاروبار” (Monopoly) بھی بہت کارآمد ثابت ہوتے ہیں، کیونکہ یہ انہیں جائیداد کی خرید و فروخت، کرایہ، اور مالیاتی فیصلے کرنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ ان کھیلوں کے ذریعے انہیں نہ صرف مالی فیصلے کرنے کی مشق ہوتی ہے بلکہ انہیں یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ ایک صحیح یا غلط فیصلہ ان کے مالی حالات پر کیسے اثر انداز ہو سکتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب بچے خود ایسے فیصلوں میں شامل ہوتے ہیں، تو وہ زیادہ دلچسپی لیتے ہیں اور سبق ان کے ذہن میں گہرا اتر جاتا ہے۔
چھوٹے فیصلوں میں انہیں شامل کرنا
جب ہم گھر کے لیے کوئی خریداری کر رہے ہوتے ہیں، تو میں اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے جاتا ہوں اور ان سے رائے لیتا ہوں۔ جیسے، اگر سبزی خریدنی ہو، تو انہیں مختلف سبزیوں کی قیمتوں کا موازنہ کرنے کا کہتا ہوں۔ اس سے انہیں یہ سمجھ آتا ہے کہ کیسے بہتر قیمت پر اچھی چیز خریدی جا سکتی ہے۔ یہ انہیں صرف قیمت دیکھنے کی بجائے، معیار اور ضرورت کے مطابق خریداری کرنے کا ہنر سکھاتا ہے۔ مثال کے طور پر، جب ہم کسی دکان پر جاتے ہیں، تو میں ان سے پوچھتا ہوں کہ “کیا تمہیں واقعی یہ کھلونا چاہیے؟ کیا اس کے لیے بچت کرنا بہتر نہیں ہوگا؟” اس طرح کے سوالات انہیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں اور ان کے اندر اپنی خواہشات پر قابو پانے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی شمولیت انہیں مالی ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے مالی فیصلے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ میرا تجربہ ہے کہ اس طرح وہ نہ صرف چیزوں کی قیمت سمجھتے ہیں بلکہ اپنی ضروریات کی ترجیحات بھی مقرر کرنا سیکھتے ہیں۔
بچت کی عادت کو فروغ دینا: چھوٹی عمر سے ہی
بچت کی عادت، میرے نزدیک، مالی کامیابی کی کنجی ہے۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں جو بچے بڑے ہو کر خود بخود سیکھ جائیں گے۔ ہمیں انہیں چھوٹی عمر سے ہی اس کی تربیت دینی ہوگی۔ میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ اپنے بچوں کو یہ احساس دلاؤں کہ بچت صرف پیسے جمع کرنا نہیں، بلکہ اپنے مستقبل کے لیے ایک محفوظ راستہ بنانا ہے۔ انہیں بچت کے مقاصد مقرر کرنے میں مدد کریں، جیسے ایک نئی سائیکل خریدنا یا اپنی پسند کا کوئی کھلونا لینا۔ جب وہ اپنی بچت کے ذریعے کوئی چیز خریدتے ہیں، تو انہیں اس کا زیادہ احساس ہوتا ہے اور وہ اس کی قدر کرتے ہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب بچے اپنے ہاتھ سے جمع کیے ہوئے پیسوں سے کچھ خریدتے ہیں، تو ان کی خوشی دیدنی ہوتی ہے اور یہ خوشی انہیں مزید بچت کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ یہ ایک خود مختار مالیاتی سفر کا آغاز ہے جو انہیں زندگی بھر فائدہ دے گا۔ یہ عادت انہیں مستقبل میں بڑے مالی اہداف حاصل کرنے کے قابل بنائے گی اور غیر متوقع صورتحال میں بھی ان کے کام آئے گی۔
بچت کے لیے مقاصد کا تعین
بچوں کے لیے بچت کو مزید دلچسپ بنانے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کے لیے واضح مقاصد مقرر کیے جائیں۔ جب وہ جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کے لیے بچت کر رہے ہیں، تو ان کی حوصلہ افزائی بڑھ جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر انہیں ایک مخصوص کھلونا یا ویڈیو گیم چاہیے، تو ان سے کہیں کہ وہ اس کی قیمت کے برابر رقم جمع کریں۔ آپ انہیں ایک چھوٹا سا چارٹ بنا کر دے سکتے ہیں جہاں وہ اپنی بچت کی پیشرفت کو نشان زد کر سکیں۔ میں نے خود اپنے بچوں کے ساتھ ایسا کیا ہے اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ کتنی لگن سے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے پیسے بچاتے ہیں۔ جب وہ اپنے ہدف تک پہنچتے ہیں اور اپنی پسند کی چیز خریدتے ہیں، تو ان کے اندر ایک کامیابی کا احساس پیدا ہوتا ہے جو انہیں مستقبل میں مزید بڑے اہداف مقرر کرنے اور انہیں حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ انہیں نہ صرف مالی نظم و ضبط سکھاتا ہے بلکہ صبر اور لگن کی اہمیت بھی سمجھاتا ہے۔
بچت کے مختلف طریقے متعارف کرانا
آج کل کے ڈیجیٹل دور میں، بچت کے طریقے بھی بدل گئے ہیں۔ بچوں کو صرف گلک میں پیسے ڈالنے کے علاوہ بینک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل بچت کے بارے میں بھی بتائیں۔ بہت سے بینک بچوں کے لیے خصوصی اکاؤنٹس پیش کرتے ہیں جہاں وہ اپنی چھوٹی موٹی بچت جمع کر سکتے ہیں۔ انہیں اپنے اکاؤنٹ کا اسٹیٹمنٹ دکھائیں اور سمجھائیں کہ ان کے پیسے کیسے بڑھ رہے ہیں۔ میرے بھتیجے کو اس بات پر بہت فخر محسوس ہوتا تھا جب اس نے پہلی بار اپنا بینک اسٹیٹمنٹ دیکھا اور اس میں معمولی سی بڑھوتری پائی۔ یہ انہیں ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے اور انہیں بینکنگ کے نظام سے واقفیت ہوتی ہے۔ انہیں یہ سکھانا کہ بچت صرف جسمانی پیسوں کی نہیں بلکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی کی جا سکتی ہے، انہیں مستقبل کے مالیاتی نظام کے لیے تیار کرتا ہے۔ آپ انہیں بچت کے مختلف آلات جیسے کہ چھوٹے بانڈز یا بچت سرٹیفکیٹس کے بارے میں بھی ابتدائی معلومات دے سکتے ہیں تاکہ ان کی مالی بصیرت مزید گہری ہو۔
آمدنی اور خرچ کا انتظام: بجٹ بنانا
مالی نظم و ضبط کا ایک اہم حصہ آمدنی اور خرچ کا انتظام ہے۔ بچوں کو بجٹ بنانے کا تصور سمجھانا، چاہے وہ کتنا ہی سادہ کیوں نہ ہو، انہیں اپنی مالی صورتحال کو سمجھنے اور کنٹرول کرنے میں مدد دے گا۔ مجھے یاد ہے میں نے ایک بار اپنے بھانجے کو ایک سادہ سا “آمدنی اور خرچ” کا رجسٹر بنا کر دیا تھا اور اسے کہا تھا کہ وہ اپنا جیب خرچ اور اپنے تمام اخراجات اس میں لکھے۔ شروع میں تو اسے یہ کام بورنگ لگا، لیکن کچھ عرصے بعد اس نے دیکھا کہ کیسے اس کے پیسے کہاں جا رہے ہیں اور اسے اپنی بچت بڑھانے کے لیے کہاں کٹوتی کرنی ہے۔ یہ ایک عملی سبق ہے جو انہیں اپنی آمدنی کی حدود میں رہتے ہوئے خرچ کرنے کی عادت ڈالتا ہے اور انہیں غیر ضروری اخراجات سے بچاتا ہے۔ یہ انہیں مستقبل میں بڑے مالی فیصلے کرتے وقت ایک ٹھوس بنیاد فراہم کرے گا اور انہیں اپنی مالیاتی صورتحال کا بہتر تجزیہ کرنے کے قابل بنائے گا۔
ایک سادہ بجٹ بنانا
بچوں کے لیے بجٹ بنانا کوئی مشکل کام نہیں۔ انہیں ایک نوٹ بک اور پنسل دیں، اور انہیں اپنے جیب خرچ کو “آمدنی” کے خانے میں لکھنے کو کہیں۔ پھر، جب وہ کوئی چیز خریدیں، تو اسے “خرچ” کے خانے میں اس کی قیمت کے ساتھ لکھیں۔ ماہ کے آخر میں، انہیں اپنی آمدنی اور خرچ کا موازنہ کرنے کو کہیں۔ انہیں سمجھائیں کہ اگر ان کا خرچ ان کی آمدنی سے زیادہ ہے، تو انہیں اگلے مہینے زیادہ احتیاط سے خرچ کرنا پڑے گا۔ یہ ایک سادہ لیکن مؤثر طریقہ ہے جو انہیں اپنی مالی صورتحال کا ایک واضح نقشہ فراہم کرتا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب بچے خود اپنے پیسوں کا حساب کتاب کرتے ہیں، تو ان میں خود مختاری اور ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ یہ انہیں مستقبل میں زیادہ بڑے اور پیچیدہ بجٹ بنانے کے لیے تیار کرتا ہے اور انہیں اپنی مالیات کو مؤثر طریقے سے منظم کرنے کا ہنر سکھاتا ہے۔
ضروریات اور خواہشات میں فرق
بجٹ بناتے وقت بچوں کو “ضروریات” اور “خواہشات” کے درمیان فرق کرنا سکھانا انتہائی اہم ہے۔ انہیں بتائیں کہ ضروریات وہ چیزیں ہیں جن کے بغیر گزارا نہیں ہوتا، جیسے کھانا، پینا، اور تعلیم۔ جبکہ خواہشات وہ چیزیں ہیں جو اچھی لگتی ہیں لیکن ان کے بغیر بھی زندگی چل سکتی ہے، جیسے مہنگے کھلونے یا غیر ضروری اسنیکس۔ اس سے انہیں اپنی ترجیحات طے کرنے میں مدد ملتی ہے اور وہ پہلے اپنی ضروریات کو پورا کرتے ہیں اور پھر اگر پیسے بچیں تو اپنی خواہشات کی طرف دیکھتے ہیں۔ میں نے اپنے بچوں کے ساتھ اس موضوع پر کئی بار بات کی ہے، اور مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ اب وہ خود ہی یہ فیصلہ کر پاتے ہیں کہ انہیں کس چیز کی زیادہ ضرورت ہے اور کس چیز کے لیے وہ انتظار کر سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا سبق ہے جو ان کی پوری زندگی کام آئے گا، چاہے وہ کوئی بھی مالی فیصلہ کر رہے ہوں۔ یہ انہیں غیر ضروری قرضوں اور مالی مشکلات سے بچنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
سرمایہ کاری کا ابتدائی تعارف: مستقبل کی بنیاد
جب ہم بچوں کو مالی طور پر مضبوط بنانے کی بات کرتے ہیں، تو بچت سے ایک قدم آگے بڑھ کر انہیں سرمایہ کاری کا ابتدائی تصور بھی دینا چاہیے۔ یقیناً، ہم ان سے کسی بڑے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے کو نہیں کہیں گے، لیکن چھوٹے پیمانے پر انہیں اس کا خیال ضرور دیا جا سکتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر ہم انہیں چھوٹی عمر سے ہی یہ سمجھائیں کہ پیسہ صرف خرچ کرنے یا بچانے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ اسے بڑھایا بھی جا سکتا ہے، تو ان کی مالی سوچ میں انقلاب آ سکتا ہے۔ انہیں بتائیں کہ کس طرح اگر ہم اپنے پیسے کو صحیح جگہ لگائیں تو وہ وقت کے ساتھ بڑھ سکتے ہیں۔ یہ انہیں مستقبل کے لیے ایک مضبوط مالی بنیاد فراہم کرنے کا ایک اہم حصہ ہے۔ میں نے خود کئی بار بچوں کے ساتھ اس موضوع پر سادہ زبان میں بات کی ہے اور انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح کچھ چیزیں وقت کے ساتھ زیادہ قیمتی ہو جاتی ہیں، اور ہم ان میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔
چھوٹے پیمانے پر سرمایہ کاری کے تصورات
بچوں کو سرمایہ کاری کا تصور سمجھانے کے لیے، ہم عملی مثالیں استعمال کر سکتے ہیں۔ انہیں کسی کاروبار کے بارے میں بتائیں جس میں پیسے لگا کر زیادہ پیسے کمائے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، انہیں پودے لگانے اور پھر ان پودوں کے بڑے ہونے پر انہیں بیچنے کا تصور دیں۔ یہ انہیں سمجھائے گا کہ کس طرح وقت اور محنت کے ساتھ سرمایہ بڑھتا ہے۔ ایک اور طریقہ یہ ہے کہ انہیں اپنے بچت اکاؤنٹ پر ملنے والے معمولی سود کے بارے میں بتائیں اور سمجھائیں کہ یہ بھی ایک قسم کی سرمایہ کاری ہے جہاں بینک ان کے پیسے کو استعمال کرتا ہے اور اس کے بدلے انہیں کچھ اضافی پیسے دیتا ہے۔ میں نے اپنے بھتیجے کو اس بارے میں سمجھایا تو وہ بہت حیران تھا کہ اس کے پیسے خود بخود بڑھ رہے ہیں۔ یہ انہیں یہ سکھاتا ہے کہ پیسے کو صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے تو وہ آپ کے لیے کام کر سکتا ہے۔ یہ چھوٹے پیمانے پر شروع ہونے والا سبق مستقبل میں بڑے مالی فیصلوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔
مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبے
والدین کے طور پر، ہم اپنے بچوں کے ساتھ چھوٹے مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبے شروع کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر بچہ کوئی نئی ویڈیو گیم چاہتا ہے جو مہنگی ہے، تو آپ اس سے کہیں کہ وہ کچھ حصہ خود بچت کرے اور باقی حصہ آپ لگائیں۔ پھر، آپ دونوں مل کر ایک مشترکہ “فنڈ” بنائیں اور جب اس سے کوئی منافع ہو (اگر ممکن ہو)، تو اسے برابر تقسیم کریں۔ یہ انہیں نہ صرف مشترکہ کام کرنے کی عادت ڈالے گا بلکہ انہیں یہ بھی سکھائے گا کہ کس طرح مل کر کام کرنے سے بڑے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ میں نے خود اپنے بچوں کے ساتھ ایک چھوٹا سا کاروباری منصوبہ شروع کیا تھا، جہاں ہم کچھ چیزیں بنا کر آن لائن بیچتے تھے، اور اس سے ہونے والے منافع کو ہم نے ان کے مستقبل کے لیے بچت کیا۔ اس تجربے نے انہیں عملی طور پر سرمایہ کاری اور کاروبار کی بنیادی باتیں سکھائیں اور انہیں مالی طور پر خود مختار بننے کی ترغیب دی۔
خیرات اور دوسروں کی مدد: مالی ذمہ داری کا احساس
مالی تعلیم صرف اپنے لیے پیسہ کمانے اور بچانے کے بارے میں نہیں، بلکہ دوسروں کی مدد کرنے اور معاشرے کے لیے کچھ کرنے کے بارے میں بھی ہے۔ اپنے بچوں کو خیرات اور صدقہ کی اہمیت سکھانا انہیں ایک ذمہ دار اور ہمدرد انسان بناتا ہے۔ میں ہمیشہ اپنے بچوں کو یہ سکھاتا ہوں کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے، وہ اللہ کی دین ہے اور اس میں دوسروں کا بھی حق ہے۔ جب ہم اپنے بچوں کو غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا سکھاتے ہیں، تو ان میں دوسروں کے دکھ درد کو سمجھنے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ یہ انہیں صرف پیسوں کی قدر ہی نہیں سکھاتا بلکہ انسانیت کی قدر بھی سکھاتا ہے۔ میرے خیال میں یہ مالی تعلیم کا ایک انتہائی اہم حصہ ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ انہیں مالی طور پر خود مختار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہتر انسان بننے کی ترغیب دیتا ہے۔
حصہ داری اور سخاوت کی ترغیب
بچوں کو یہ سکھائیں کہ وہ اپنے جیب خرچ کا کچھ حصہ خیرات کے لیے نکالیں۔ انہیں دکھائیں کہ کیسے چھوٹے چھوٹے عطیات بھی بڑے فرق لا سکتے ہیں۔ جب ہم کسی ضرورت مند کی مدد کرتے ہیں، تو اس سے نہ صرف اس شخص کو فائدہ ہوتا ہے بلکہ ہمیں بھی دلی سکون ملتا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب میرے بچے اپنی چھوٹی سی بچت میں سے کسی غریب بچے کو کچھ دیتے ہیں، تو ان کے چہروں پر ایک عجیب سی چمک ہوتی ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ عمل انہیں کتنا خوش کرتا ہے۔ اس سے ان میں سخاوت اور حصہ داری کی عادت پیدا ہوتی ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں ان کے کام آتی ہے۔ یہ انہیں معاشرتی ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے اور انہیں ایک بہتر شہری بننے میں مدد دیتا ہے۔ ان سے کہیے کہ کسی ٹرسٹ یا فلاحی تنظیم کے لیے پیسے جمع کریں تاکہ انہیں ایک اجتماعی کام میں حصہ لینے کا موقع ملے۔
عملی مثالوں کے ذریعے سیکھنا
اپنے بچوں کو مختلف فلاحی اداروں کے بارے میں بتائیں اور انہیں دکھائیں کہ کس طرح یہ ادارے ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں۔ ممکن ہو تو انہیں کسی ایسے ادارے میں لے جائیں جہاں وہ خود غریبوں اور یتیموں سے مل سکیں اور انہیں اپنی طرف سے کچھ تحفے دے سکیں۔ جب وہ اپنی آنکھوں سے دوسروں کی مشکلات دیکھیں گے اور اپنی مدد سے ان کی زندگی میں کچھ بہتری لائیں گے، تو انہیں اس کا حقیقی احساس ہوگا۔ میرے ایک دوست نے اپنے بچوں کو ایک یتیم خانے کا دورہ کروایا تھا، اور ان بچوں نے وہاں کے بچوں کے ساتھ اپنا جیب خرچ اور کچھ کھلونے بانٹے تھے۔ اس تجربے نے ان کے دلوں میں ہمدردی اور سخاوت کے بیج بو دیے۔ یہ انہیں یہ سکھاتا ہے کہ مال و دولت صرف ذاتی خوشی کے لیے نہیں، بلکہ دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کے لیے بھی ہے۔
ڈیجیٹل دنیا میں مالی حفاظت: آن لائن لین دین
آج کا دور ڈیجیٹل دور ہے، اور ہمارے بچے اکثر آن لائن خریداری کرتے ہیں یا مختلف ایپس میں پیسے خرچ کرتے ہیں۔ اس لیے انہیں ڈیجیٹل دنیا میں مالی طور پر محفوظ رہنے کی تعلیم دینا بہت ضروری ہے۔ یہ صرف ان کے پیسوں کو محفوظ رکھنے کا معاملہ نہیں، بلکہ انہیں آن لائن فراڈ اور سائبر کرائم سے بچانے کا بھی ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ بچے بعض اوقات آن لائن گیمز میں غیر ضروری طور پر پیسے خرچ کر دیتے ہیں کیونکہ انہیں اس کی اصلی قیمت کا اندازہ نہیں ہوتا۔ ہمیں انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ آن لائن لین دین کرتے وقت کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ یہ انہیں مستقبل میں ایک ذمہ دار ڈیجیٹل صارف بننے میں مدد دے گا۔
آن لائن خریداری کی اہمیت اور خطرات
بچوں کو یہ سمجھائیں کہ آن لائن خریداری آسان ہے لیکن اس میں کچھ خطرات بھی ہیں۔ انہیں بتائیں کہ صرف بھروسے مند ویب سائٹس سے خریداری کریں اور اپنی ذاتی معلومات اور بینک کی تفصیلات کسی نامعلوم شخص یا ویب سائٹ کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ انہیں یہ بھی سکھائیں کہ آن لائن اشتہارات بعض اوقات گمراہ کن ہو سکتے ہیں اور ہر پیشکش پر فوراً یقین نہ کریں۔ میں نے خود اپنے بچوں کو اپنے کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات کسی کے ساتھ شیئر نہ کرنے کی تلقین کی ہے، اور انہیں سمجھایا ہے کہ اگر کوئی چیز آن لائن بہت سستی مل رہی ہو تو اس کی صداقت پر شک کریں۔ یہ انہیں ہوشیاری سے آن لائن خریداری کرنے کی عادت ڈالتا ہے اور انہیں مالیاتی دھوکہ دہی سے بچاتا ہے۔ انہیں آن لائن پاسورڈز کو محفوظ رکھنے اور وقتاً فوقتاً تبدیل کرنے کی اہمیت بھی سمجھائیں۔
ڈیجیٹل ادائیگیوں کا استعمال
آج کل بہت سے بچے آن لائن گیمز یا ایپس میں خریداری کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کا استعمال کرتے ہیں۔ انہیں ڈیجیٹل والیٹس اور ایزی پیسہ/جاز کیش جیسی سروسز کے بارے میں بتائیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی سمجھائیں کہ ان کا استعمال ذمہ داری سے کیا جانا چاہیے۔ انہیں اپنے والدین کی اجازت کے بغیر کوئی بھی آن لائن خریداری نہ کرنے کی ہدایت دیں۔ انہیں اپنے والدین کی معلومات یا کارڈ نمبر استعمال نہ کرنے کا کہیں جب تک کہ انہیں خاص طور پر اجازت نہ دی گئی ہو۔ میں نے اپنے بیٹے کو ایک چھوٹا سا پری پیڈ کارڈ دیا ہے جس میں وہ اپنی جیب خرچ سے کچھ پیسے ڈال سکتا ہے اور صرف اتنی ہی رقم خرچ کر سکتا ہے۔ اس سے اسے ڈیجیٹل ادائیگیوں کا تجربہ بھی ملتا ہے اور اس کے اخراجات بھی قابو میں رہتے ہیں۔ یہ انہیں ڈیجیٹل مالیات کے پیچیدہ نظام کو سمجھنے اور اسے محفوظ طریقے سے استعمال کرنے کی مہارت فراہم کرتا ہے۔
مالی آزادی کی طرف پہلا قدم: اہداف کا تعین
مالی آزادی ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے، اور یہ کوئی راتوں رات حاصل ہونے والی چیز نہیں ہے۔ اس کے لیے مستقل منصوبہ بندی اور اہداف کا تعین ضروری ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی یہ سکھانا چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں مالی اہداف مقرر کریں اور انہیں حاصل کرنے کے لیے کیا اقدامات کریں۔ یہ انہیں ایک وژن دیتا ہے اور انہیں اپنے مالی مستقبل کے لیے ذمہ دار بناتا ہے۔ میں نے خود یہ محسوس کیا ہے کہ جب ہم بچوں کو اپنی زندگی کے لیے اہداف مقرر کرنے میں مدد کرتے ہیں، تو ان میں خود اعتمادی بڑھتی ہے اور وہ زیادہ محنت سے کام کرتے ہیں۔ یہ انہیں مستقبل میں ایک کامیاب اور مالی طور پر خود مختار زندگی گزارنے کے قابل بناتا ہے۔
مستقبل کے لیے مالی اہداف
اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کے مستقبل کے خوابوں کے بارے میں بات کریں۔ انہیں پوچھیں کہ وہ بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہیں اور اس کے لیے انہیں کتنی رقم کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی بچہ ڈاکٹر بننا چاہتا ہے، تو اسے بتائیں کہ تعلیم پر کتنا خرچ آ سکتا ہے اور اس کے لیے انہیں ابھی سے بچت شروع کرنی ہوگی۔ یہ انہیں طویل مدتی سوچ کا حامل بناتا ہے اور انہیں چھوٹے چھوٹے اہداف مقرر کرنے میں مدد دیتا ہے جو ان کے بڑے خوابوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ میں نے اپنے ایک بھتیجے کے ساتھ اس طرح کا ایک سیشن کیا تھا اور اس نے اپنی تعلیم کے لیے ایک چھوٹی سی بچت شروع کر دی تھی، جو اس کے لیے ایک بہت بڑا قدم تھا۔ یہ انہیں یہ سکھاتا ہے کہ بڑے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے چھوٹے اور مسلسل اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔
مالی آزادی کا تصور
بچوں کو مالی آزادی کا تصور سمجھائیں، یعنی اپنی ضروریات اور خواہشات کو پورا کرنے کے لیے کسی پر انحصار نہ کرنا۔ انہیں بتائیں کہ کس طرح محنت، بچت، اور سمجھداری سے سرمایہ کاری کرکے وہ ایک دن مالی طور پر آزاد ہو سکتے ہیں۔ انہیں یہ بھی بتائیں کہ مالی آزادی کا مطلب بے تحاشہ دولت ہونا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ کے پاس اتنے وسائل ہوں کہ آپ اپنی پسند کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ یہ انہیں خود مختاری اور خود اعمادی کی طرف گامزن کرتا ہے اور انہیں اپنی زندگی کے مالی پہلوؤں کو خود کنٹرول کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک ایسا تصور ہے جو انہیں زندگی بھر متاثر کرے گا اور انہیں اپنی مالی منزل تک پہنچنے میں مدد دے گا۔
| مالی تصور | بچوں کو سکھانے کا طریقہ | متوقع فائدہ |
|---|---|---|
| پیسوں کی قدر | جیب خرچ کی مقدار مقرر کرنا، خریداری میں شامل کرنا | ذمہ داری اور احترام کا احساس |
| بچت کی عادت | مقاصد کے ساتھ بچت، گلک کا استعمال، بینک اکاؤنٹ کا تعارف | مستقبل کے لیے تیاری، نظم و ضبط |
| بجٹ بنانا | آمدنی و خرچ کا رجسٹر، ضروریات اور خواہشات میں فرق | مالی کنٹرول، ہوشیار اخراجات |
| سرمایہ کاری کا تعارف | سود کا تصور، چھوٹے مشترکہ منصوبے | مالی ترقی کی سمجھ، طویل مدتی سوچ |
| خیرات اور ذمہ داری | مقرر خیرات، فلاحی دورے، حصہ داری | ہمدردی، معاشرتی شعور |
| ڈیجیٹل حفاظت | آن لائن خطرات، محفوظ لین دین کے اصول | سائبر فراڈ سے بچاؤ، ذمہ دار ڈیجیٹل صارف |
بچوں کو پیسوں کی قدر سکھانا: بنیادی اصول
میرے خیال میں، ہمارے بچوں کی مالی تعلیم کا سفر گھر سے ہی شروع ہوتا ہے۔ یہ صرف جیب خرچ دینے یا انہیں اپنی مرضی سے کچھ خریدنے کی اجازت دینے سے کہیں زیادہ ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں چھوٹا تھا، میرے والد صاحب نے مجھے ایک چھوٹا سا گلک دیا تھا اور ہر ہفتے اس میں کچھ پیسے ڈالنے کو کہا۔ اس وقت تو مجھے اس کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا، لیکن اب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو سمجھ آتا ہے کہ وہ مجھے بچت کا پہلا سبق سکھا رہے تھے۔ بچوں کو یہ سمجھانا بہت ضروری ہے کہ پیسہ آسانی سے نہیں آتا، بلکہ یہ محنت اور وقت کا ثمر ہے۔ جب ہم انہیں بتاتے ہیں کہ آپ کے والد یا والدہ کتنی محنت سے یہ پیسے کماتے ہیں، تو ان کے اندر پیسے کی قدر اور احترام پیدا ہوتا ہے۔ انہیں یہ سکھانا کہ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے ہمیں کچھ قربانی دینی پڑتی ہے، ان کی مالی سوچ کی مضبوط بنیاد بناتا ہے۔ یہ انہیں مستقبل میں غیر ضروری اخراجات سے بچنے میں مدد دے گا اور وہ اپنی ضروریات اور خواہشات کے درمیان فرق کر سکیں گے۔
کھیل کے ذریعے مالی تصورات کا تعارف
میں نے اپنے بچوں کے ساتھ اکثر یہ طریقہ آزمایا ہے کہ انہیں کھیل کھیل میں پیسوں کے بارے میں سکھایا جائے۔ مثال کے طور پر، ہم “دوکان دوکان” کھیلتے ہیں جہاں وہ خود دکاندار بنتے ہیں اور چیزوں کی قیمتیں مقرر کرتے ہیں۔ اس سے انہیں قیمتوں، خرید و فروخت اور منافع کا ایک بنیادی تصور ملتا ہے۔ یہ ایک بہترین طریقہ ہے جہاں وہ عملی طور پر یہ سیکھتے ہیں کہ اشیاء کیسے خریدی جاتی ہیں اور پیسوں کا لین دین کیسے ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، بورڈ گیمز جیسے “کاروبار” (Monopoly) بھی بہت کارآمد ثابت ہوتے ہیں، کیونکہ یہ انہیں جائیداد کی خرید و فروخت، کرایہ، اور مالیاتی فیصلے کرنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ ان کھیلوں کے ذریعے انہیں نہ صرف مالی فیصلے کرنے کی مشق ہوتی ہے بلکہ انہیں یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ ایک صحیح یا غلط فیصلہ ان کے مالی حالات پر کیسے اثر انداز ہو سکتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب بچے خود ایسے فیصلوں میں شامل ہوتے ہیں، تو وہ زیادہ دلچسپی لیتے ہیں اور سبق ان کے ذہن میں گہرا اتر جاتا ہے۔
چھوٹے فیصلوں میں انہیں شامل کرنا

جب ہم گھر کے لیے کوئی خریداری کر رہے ہوتے ہیں، تو میں اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے جاتا ہوں اور ان سے رائے لیتا ہوں۔ جیسے، اگر سبزی خریدنی ہو، تو انہیں مختلف سبزیوں کی قیمتوں کا موازنہ کرنے کا کہتا ہوں۔ اس سے انہیں یہ سمجھ آتا ہے کہ کیسے بہتر قیمت پر اچھی چیز خریدی جا سکتی ہے۔ یہ انہیں صرف قیمت دیکھنے کی بجائے، معیار اور ضرورت کے مطابق خریداری کرنے کا ہنر سکھاتا ہے۔ مثال کے طور پر، جب ہم کسی دکان پر جاتے ہیں، تو میں ان سے پوچھتا ہوں کہ “کیا تمہیں واقعی یہ کھلونا چاہیے؟ کیا اس کے لیے بچت کرنا بہتر نہیں ہوگا؟” اس طرح کے سوالات انہیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں اور ان کے اندر اپنی خواہشات پر قابو پانے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی شمولیت انہیں مالی ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے مالی فیصلے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ میرا تجربہ ہے کہ اس طرح وہ نہ صرف چیزوں کی قیمت سمجھتے ہیں بلکہ اپنی ضروریات کی ترجیحات بھی مقرر کرنا سیکھتے ہیں۔
بچت کی عادت کو فروغ دینا: چھوٹی عمر سے ہی
بچت کی عادت، میرے نزدیک، مالی کامیابی کی کنجی ہے۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں جو بچے بڑے ہو کر خود بخود سیکھ جائیں گے۔ ہمیں انہیں چھوٹی عمر سے ہی اس کی تربیت دینی ہوگی۔ میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ اپنے بچوں کو یہ احساس دلاؤں کہ بچت صرف پیسے جمع کرنا نہیں، بلکہ اپنے مستقبل کے لیے ایک محفوظ راستہ بنانا ہے۔ انہیں بچت کے مقاصد مقرر کرنے میں مدد کریں، جیسے ایک نئی سائیکل خریدنا یا اپنی پسند کا کوئی کھلونا لینا۔ جب وہ اپنی بچت کے ذریعے کوئی چیز خریدتے ہیں، تو انہیں اس کا زیادہ احساس ہوتا ہے اور وہ اس کی قدر کرتے ہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب بچے اپنے ہاتھ سے جمع کیے ہوئے پیسوں سے کچھ خریدتے ہیں، تو ان کی خوشی دیدنی ہوتی ہے اور یہ خوشی انہیں مزید بچت کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ یہ ایک خود مختار مالیاتی سفر کا آغاز ہے جو انہیں زندگی بھر فائدہ دے گا۔ یہ عادت انہیں مستقبل میں بڑے مالی اہداف حاصل کرنے کے قابل بنائے گی اور غیر متوقع صورتحال میں بھی ان کے کام آئے گی۔
بچت کے لیے مقاصد کا تعین
بچوں کے لیے بچت کو مزید دلچسپ بنانے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کے لیے واضح مقاصد مقرر کیے جائیں۔ جب وہ جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کے لیے بچت کر رہے ہیں، تو ان کی حوصلہ افزائی بڑھ جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر انہیں ایک مخصوص کھلونا یا ویڈیو گیم چاہیے، تو ان سے کہیں کہ وہ اس کی قیمت کے برابر رقم جمع کریں۔ آپ انہیں ایک چھوٹا سا چارٹ بنا کر دے سکتے ہیں جہاں وہ اپنی بچت کی پیشرفت کو نشان زد کر سکیں۔ میں نے خود اپنے بچوں کے ساتھ ایسا کیا ہے اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ کتنی لگن سے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے پیسے بچاتے ہیں۔ جب وہ اپنے ہدف تک پہنچتے ہیں اور اپنی پسند کی چیز خریدتے ہیں، تو ان کے اندر ایک کامیابی کا احساس پیدا ہوتا ہے جو انہیں مستقبل میں مزید بڑے اہداف مقرر کرنے اور انہیں حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ انہیں نہ صرف مالی نظم و ضبط سکھاتا ہے بلکہ صبر اور لگن کی اہمیت بھی سمجھاتا ہے۔
بچت کے مختلف طریقے متعارف کرانا
آج کل کے ڈیجیٹل دور میں، بچت کے طریقے بھی بدل گئے ہیں۔ بچوں کو صرف گلک میں پیسے ڈالنے کے علاوہ بینک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل بچت کے بارے میں بھی بتائیں۔ بہت سے بینک بچوں کے لیے خصوصی اکاؤنٹس پیش کرتے ہیں جہاں وہ اپنی چھوٹی موٹی بچت جمع کر سکتے ہیں۔ انہیں اپنے اکاؤنٹ کا اسٹیٹمنٹ دکھائیں اور سمجھائیں کہ ان کے پیسے کیسے بڑھ رہے ہیں۔ میرے بھتیجے کو اس بات پر بہت فخر محسوس ہوتا تھا جب اس نے پہلی بار اپنا بینک اسٹیٹمنٹ دیکھا اور اس میں معمولی سی بڑھوتری پائی۔ یہ انہیں ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے اور انہیں بینکنگ کے نظام سے واقفیت ہوتی ہے۔ انہیں یہ سکھانا کہ بچت صرف جسمانی پیسوں کی نہیں بلکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی کی جا سکتی ہے، انہیں مستقبل کے مالیاتی نظام کے لیے تیار کرتا ہے۔ آپ انہیں بچت کے مختلف آلات جیسے کہ چھوٹے بانڈز یا بچت سرٹیفکیٹس کے بارے میں بھی ابتدائی معلومات دے سکتے ہیں تاکہ ان کی مالی بصیرت مزید گہری ہو۔
آمدنی اور خرچ کا انتظام: بجٹ بنانا
مالی نظم و ضبط کا ایک اہم حصہ آمدنی اور خرچ کا انتظام ہے۔ بچوں کو بجٹ بنانے کا تصور سمجھانا، چاہے وہ کتنا ہی سادہ کیوں نہ ہو، انہیں اپنی مالی صورتحال کو سمجھنے اور کنٹرول کرنے میں مدد دے گا۔ مجھے یاد ہے میں نے ایک بار اپنے بھانجے کو ایک سادہ سا “آمدنی اور خرچ” کا رجسٹر بنا کر دیا تھا اور اسے کہا تھا کہ وہ اپنا جیب خرچ اور اپنے تمام اخراجات اس میں لکھے۔ شروع میں تو اسے یہ کام بورنگ لگا، لیکن کچھ عرصے بعد اس نے دیکھا کہ کیسے اس کے پیسے کہاں جا رہے ہیں اور اسے اپنی بچت بڑھانے کے لیے کہاں کٹوتی کرنی ہے۔ یہ ایک عملی سبق ہے جو انہیں اپنی آمدنی کی حدود میں رہتے ہوئے خرچ کرنے کی عادت ڈالتا ہے اور انہیں غیر ضروری اخراجات سے بچاتا ہے۔ یہ انہیں مستقبل میں بڑے مالی فیصلے کرتے وقت ایک ٹھوس بنیاد فراہم کرے گا اور انہیں اپنی مالیاتی صورتحال کا بہتر تجزیہ کرنے کے قابل بنائے گا۔
ایک سادہ بجٹ بنانا
بچوں کے لیے بجٹ بنانا کوئی مشکل کام نہیں۔ انہیں ایک نوٹ بک اور پنسل دیں، اور انہیں اپنے جیب خرچ کو “آمدنی” کے خانے میں لکھنے کو کہیں۔ پھر، جب وہ کوئی چیز خریدیں، تو اسے “خرچ” کے خانے میں اس کی قیمت کے ساتھ لکھیں۔ ماہ کے آخر میں، انہیں اپنی آمدنی اور خرچ کا موازنہ کرنے کو کہیں۔ انہیں سمجھائیں کہ اگر ان کا خرچ ان کی آمدنی سے زیادہ ہے، تو انہیں اگلے مہینے زیادہ احتیاط سے خرچ کرنا پڑے گا۔ یہ ایک سادہ لیکن مؤثر طریقہ ہے جو انہیں اپنی مالی صورتحال کا ایک واضح نقشہ فراہم کرتا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب بچے خود اپنے پیسوں کا حساب کتاب کرتے ہیں، تو ان میں خود مختاری اور ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ یہ انہیں مستقبل میں زیادہ بڑے اور پیچیدہ بجٹ بنانے کے لیے تیار کرتا ہے اور انہیں اپنی مالیات کو مؤثر طریقے سے منظم کرنے کا ہنر سکھاتا ہے۔
ضروریات اور خواہشات میں فرق
بجٹ بناتے وقت بچوں کو “ضروریات” اور “خواہشات” کے درمیان فرق کرنا سکھانا انتہائی اہم ہے۔ انہیں بتائیں کہ ضروریات وہ چیزیں ہیں جن کے بغیر گزارا نہیں ہوتا، جیسے کھانا، پینا، اور تعلیم۔ جبکہ خواہشات وہ چیزیں ہیں جو اچھی لگتی ہیں لیکن ان کے بغیر بھی زندگی چل سکتی ہے، جیسے مہنگے کھلونے یا غیر ضروری اسنیکس۔ اس سے انہیں اپنی ترجیحات طے کرنے میں مدد ملتی ہے اور وہ پہلے اپنی ضروریات کو پورا کرتے ہیں اور پھر اگر پیسے بچیں تو اپنی خواہشات کی طرف دیکھتے ہیں۔ میں نے اپنے بچوں کے ساتھ اس موضوع پر کئی بار بات کی ہے، اور مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ اب وہ خود ہی یہ فیصلہ کر پاتے ہیں کہ انہیں کس چیز کی زیادہ ضرورت ہے اور کس چیز کے لیے وہ انتظار کر سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا سبق ہے جو ان کی پوری زندگی کام آئے گا، چاہے وہ کوئی بھی مالی فیصلہ کر رہے ہوں۔ یہ انہیں غیر ضروری قرضوں اور مالی مشکلات سے بچنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
سرمایہ کاری کا ابتدائی تعارف: مستقبل کی بنیاد
جب ہم بچوں کو مالی طور پر مضبوط بنانے کی بات کرتے ہیں، تو بچت سے ایک قدم آگے بڑھ کر انہیں سرمایہ کاری کا ابتدائی تصور بھی دینا چاہیے۔ یقیناً، ہم ان سے کسی بڑے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے کو نہیں کہیں گے، لیکن چھوٹے پیمانے پر انہیں اس کا خیال ضرور دیا جا سکتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر ہم انہیں چھوٹی عمر سے ہی یہ سمجھائیں کہ پیسہ صرف خرچ کرنے یا بچانے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ اسے بڑھایا بھی جا سکتا ہے، تو ان کی مالی سوچ میں انقلاب آ سکتا ہے۔ انہیں بتائیں کہ کس طرح اگر ہم اپنے پیسے کو صحیح جگہ لگائیں تو وہ وقت کے ساتھ بڑھ سکتے ہیں۔ یہ انہیں مستقبل کے لیے ایک مضبوط مالی بنیاد فراہم کرنے کا ایک اہم حصہ ہے۔ میں نے خود کئی بار بچوں کے ساتھ اس موضوع پر سادہ زبان میں بات کی ہے اور انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح کچھ چیزیں وقت کے ساتھ زیادہ قیمتی ہو جاتی ہیں، اور ہم ان میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔
چھوٹے پیمانے پر سرمایہ کاری کے تصورات
بچوں کو سرمایہ کاری کا تصور سمجھانے کے لیے، ہم عملی مثالیں استعمال کر سکتے ہیں۔ انہیں کسی کاروبار کے بارے میں بتائیں جس میں پیسے لگا کر زیادہ پیسے کمائے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، انہیں پودے لگانے اور پھر ان پودوں کے بڑے ہونے پر انہیں بیچنے کا تصور دیں۔ یہ انہیں سمجھائے گا کہ کس طرح وقت اور محنت کے ساتھ سرمایہ بڑھتا ہے۔ ایک اور طریقہ یہ ہے کہ انہیں اپنے بچت اکاؤنٹ پر ملنے والے معمولی سود کے بارے میں بتائیں اور سمجھائیں کہ یہ بھی ایک قسم کی سرمایہ کاری ہے جہاں بینک ان کے پیسے کو استعمال کرتا ہے اور اس کے بدلے انہیں کچھ اضافی پیسے دیتا ہے۔ میں نے اپنے بھتیجے کو اس بارے میں سمجھایا تو وہ بہت حیران تھا کہ اس کے پیسے خود بخود بڑھ رہے ہیں۔ یہ انہیں یہ سکھاتا ہے کہ پیسے کو صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے تو وہ آپ کے لیے کام کر سکتا ہے۔ یہ چھوٹے پیمانے پر شروع ہونے والا سبق مستقبل میں بڑے مالی فیصلوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔
مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبے
والدین کے طور پر، ہم اپنے بچوں کے ساتھ چھوٹے مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبے شروع کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر بچہ کوئی نئی ویڈیو گیم چاہتا ہے جو مہنگی ہے، تو آپ اس سے کہیں کہ وہ کچھ حصہ خود بچت کرے اور باقی حصہ آپ لگائیں۔ پھر، آپ دونوں مل کر ایک مشترکہ “فنڈ” بنائیں اور جب اس سے کوئی منافع ہو (اگر ممکن ہو)، تو اسے برابر تقسیم کریں۔ یہ انہیں نہ صرف مشترکہ کام کرنے کی عادت ڈالے گا بلکہ انہیں یہ بھی سکھائے گا کہ کس طرح مل کر کام کرنے سے بڑے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ میں نے خود اپنے بچوں کے ساتھ ایک چھوٹا سا کاروباری منصوبہ شروع کیا تھا، جہاں ہم کچھ چیزیں بنا کر آن لائن بیچتے تھے، اور اس سے ہونے والے منافع کو ہم نے ان کے مستقبل کے لیے بچت کیا۔ اس تجربے نے انہیں عملی طور پر سرمایہ کاری اور کاروبار کی بنیادی باتیں سکھائیں اور انہیں مالی طور پر خود مختار بننے کی ترغیب دی۔
خیرات اور دوسروں کی مدد: مالی ذمہ داری کا احساس
مالی تعلیم صرف اپنے لیے پیسہ کمانے اور بچانے کے بارے میں نہیں، بلکہ دوسروں کی مدد کرنے اور معاشرے کے لیے کچھ کرنے کے بارے میں بھی ہے۔ اپنے بچوں کو خیرات اور صدقہ کی اہمیت سکھانا انہیں ایک ذمہ دار اور ہمدرد انسان بناتا ہے۔ میں ہمیشہ اپنے بچوں کو یہ سکھاتا ہوں کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے، وہ اللہ کی دین ہے اور اس میں دوسروں کا بھی حق ہے۔ جب ہم اپنے بچوں کو غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا سکھاتے ہیں، تو ان میں دوسروں کے دکھ درد کو سمجھنے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ یہ انہیں صرف پیسوں کی قدر ہی نہیں سکھاتا بلکہ انسانیت کی قدر بھی سکھاتا ہے۔ میرے خیال میں یہ مالی تعلیم کا ایک انتہائی اہم حصہ ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ انہیں مالی طور پر خود مختار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہتر انسان بننے کی ترغیب دیتا ہے۔
حصہ داری اور سخاوت کی ترغیب
بچوں کو یہ سکھائیں کہ وہ اپنے جیب خرچ کا کچھ حصہ خیرات کے لیے نکالیں۔ انہیں دکھائیں کہ کیسے چھوٹے چھوٹے عطیات بھی بڑے فرق لا سکتے ہیں۔ جب ہم کسی ضرورت مند کی مدد کرتے ہیں، تو اس سے نہ صرف اس شخص کو فائدہ ہوتا ہے بلکہ ہمیں بھی دلی سکون ملتا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب میرے بچے اپنی چھوٹی سی بچت میں سے کسی غریب بچے کو کچھ دیتے ہیں، تو ان کے چہروں پر ایک عجیب سی چمک ہوتی ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ عمل انہیں کتنا خوش کرتا ہے۔ اس سے ان میں سخاوت اور حصہ داری کی عادت پیدا ہوتی ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں ان کے کام آتی ہے۔ یہ انہیں معاشرتی ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے اور انہیں ایک بہتر شہری بننے میں مدد دیتا ہے۔ ان سے کہیے کہ کسی ٹرسٹ یا فلاحی تنظیم کے لیے پیسے جمع کریں تاکہ انہیں ایک اجتماعی کام میں حصہ لینے کا موقع ملے۔
عملی مثالوں کے ذریعے سیکھنا
اپنے بچوں کو مختلف فلاحی اداروں کے بارے میں بتائیں اور انہیں دکھائیں کہ کس طرح یہ ادارے ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں۔ ممکن ہو تو انہیں کسی ایسے ادارے میں لے جائیں جہاں وہ خود غریبوں اور یتیموں سے مل سکیں اور انہیں اپنی طرف سے کچھ تحفے دے سکیں۔ جب وہ اپنی آنکھوں سے دوسروں کی مشکلات دیکھیں گے اور اپنی مدد سے ان کی زندگی میں کچھ بہتری لائیں گے، تو انہیں اس کا حقیقی احساس ہوگا۔ میرے ایک دوست نے اپنے بچوں کو ایک یتیم خانے کا دورہ کروایا تھا، اور ان بچوں نے وہاں کے بچوں کے ساتھ اپنا جیب خرچ اور کچھ کھلونے بانٹے تھے۔ اس تجربے نے ان کے دلوں میں ہمدردی اور سخاوت کے بیج بو دیے۔ یہ انہیں یہ سکھاتا ہے کہ مال و دولت صرف ذاتی خوشی کے لیے نہیں، بلکہ دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کے لیے بھی ہے۔
ڈیجیٹل دنیا میں مالی حفاظت: آن لائن لین دین
آج کا دور ڈیجیٹل دور ہے، اور ہمارے بچے اکثر آن لائن خریداری کرتے ہیں یا مختلف ایپس میں پیسے خرچ کرتے ہیں۔ اس لیے انہیں ڈیجیٹل دنیا میں مالی طور پر محفوظ رہنے کی تعلیم دینا بہت ضروری ہے۔ یہ صرف ان کے پیسوں کو محفوظ رکھنے کا معاملہ نہیں، بلکہ انہیں آن لائن فراڈ اور سائبر کرائم سے بچانے کا بھی ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ بچے بعض اوقات آن لائن گیمز میں غیر ضروری طور پر پیسے خرچ کر دیتے ہیں کیونکہ انہیں اس کی اصلی قیمت کا اندازہ نہیں ہوتا۔ ہمیں انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ آن لائن لین دین کرتے وقت کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ یہ انہیں مستقبل میں ایک ذمہ دار ڈیجیٹل صارف بننے میں مدد دے گا۔
آن لائن خریداری کی اہمیت اور خطرات
بچوں کو یہ سمجھائیں کہ آن لائن خریداری آسان ہے لیکن اس میں کچھ خطرات بھی ہیں۔ انہیں بتائیں کہ صرف بھروسے مند ویب سائٹس سے خریداری کریں اور اپنی ذاتی معلومات اور بینک کی تفصیلات کسی نامعلوم شخص یا ویب سائٹ کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ انہیں یہ بھی سکھائیں کہ آن لائن اشتہارات بعض اوقات گمراہ کن ہو سکتے ہیں اور ہر پیشکش پر فوراً یقین نہ کریں۔ میں نے خود اپنے بچوں کو اپنے کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات کسی کے ساتھ شیئر نہ کرنے کی تلقین کی ہے، اور انہیں سمجھایا ہے کہ اگر کوئی چیز آن لائن بہت سستی مل رہی ہو تو اس کی صداقت پر شک کریں۔ یہ انہیں ہوشیاری سے آن لائن خریداری کرنے کی عادت ڈالتا ہے اور انہیں مالیاتی دھوکہ دہی سے بچاتا ہے۔ انہیں آن لائن پاسورڈز کو محفوظ رکھنے اور وقتاً فوقتاً تبدیل کرنے کی اہمیت بھی سمجھائیں۔
ڈیجیٹل ادائیگیوں کا استعمال
آج کل بہت سے بچے آن لائن گیمز یا ایپس میں خریداری کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کا استعمال کرتے ہیں۔ انہیں ڈیجیٹل والیٹس اور ایزی پیسہ/جاز کیش جیسی سروسز کے بارے میں بتائیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی سمجھائیں کہ ان کا استعمال ذمہ داری سے کیا جانا چاہیے۔ انہیں اپنے والدین کی اجازت کے بغیر کوئی بھی آن لائن خریداری نہ کرنے کی ہدایت دیں۔ انہیں اپنے والدین کی معلومات یا کارڈ نمبر استعمال نہ کرنے کا کہیں جب تک کہ انہیں خاص طور پر اجازت نہ دی گئی ہو۔ میں نے اپنے بیٹے کو ایک چھوٹا سا پری پیڈ کارڈ دیا ہے جس میں وہ اپنی جیب خرچ سے کچھ پیسے ڈال سکتا ہے اور صرف اتنی ہی رقم خرچ کر سکتا ہے۔ اس سے اسے ڈیجیٹل ادائیگیوں کا تجربہ بھی ملتا ہے اور اس کے اخراجات بھی قابو میں رہتے ہیں۔ یہ انہیں ڈیجیٹل مالیات کے پیچیدہ نظام کو سمجھنے اور اسے محفوظ طریقے سے استعمال کرنے کی مہارت فراہم کرتا ہے۔
مالی آزادی کی طرف پہلا قدم: اہداف کا تعین
مالی آزادی ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے، اور یہ کوئی راتوں رات حاصل ہونے والی چیز نہیں ہے۔ اس کے لیے مستقل منصوبہ بندی اور اہداف کا تعین ضروری ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی یہ سکھانا چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں مالی اہداف مقرر کریں اور انہیں حاصل کرنے کے لیے کیا اقدامات کریں۔ یہ انہیں ایک وژن دیتا ہے اور انہیں اپنے مالی مستقبل کے لیے ذمہ دار بناتا ہے۔ میں نے خود یہ محسوس کیا ہے کہ جب ہم بچوں کو اپنی زندگی کے لیے اہداف مقرر کرنے میں مدد کرتے ہیں، تو ان میں خود اعتمادی بڑھتی ہے اور وہ زیادہ محنت سے کام کرتے ہیں۔ یہ انہیں مستقبل میں ایک کامیاب اور مالی طور پر خود مختار زندگی گزارنے کے قابل بناتا ہے۔
مستقبل کے لیے مالی اہداف
اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کے مستقبل کے خوابوں کے بارے میں بات کریں۔ انہیں پوچھیں کہ وہ بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہیں اور اس کے لیے انہیں کتنی رقم کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی بچہ ڈاکٹر بننا چاہتا ہے، تو اسے بتائیں کہ تعلیم پر کتنا خرچ آ سکتا ہے اور اس کے لیے انہیں ابھی سے بچت شروع کرنی ہوگی۔ یہ انہیں طویل مدتی سوچ کا حامل بناتا ہے اور انہیں چھوٹے چھوٹے اہداف مقرر کرنے میں مدد دیتا ہے جو ان کے بڑے خوابوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ میں نے اپنے ایک بھتیجے کے ساتھ اس طرح کا ایک سیشن کیا تھا اور اس نے اپنی تعلیم کے لیے ایک چھوٹی سی بچت شروع کر دی تھی، جو اس کے لیے ایک بہت بڑا قدم تھا۔ یہ انہیں یہ سکھاتا ہے کہ بڑے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے چھوٹے اور مسلسل اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔
مالی آزادی کا تصور
بچوں کو مالی آزادی کا تصور سمجھائیں، یعنی اپنی ضروریات اور خواہشات کو پورا کرنے کے لیے کسی پر انحصار نہ کرنا۔ انہیں بتائیں کہ کس طرح محنت، بچت، اور سمجھداری سے سرمایہ کاری کرکے وہ ایک دن مالی طور پر آزاد ہو سکتے ہیں۔ انہیں یہ بھی بتائیں کہ مالی آزادی کا مطلب بے تحاشہ دولت ہونا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ کے پاس اتنے وسائل ہوں کہ آپ اپنی پسند کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ یہ انہیں خود مختاری اور خود اعمادی کی طرف گامزن کرتا ہے اور انہیں اپنی زندگی کے مالی پہلوؤں کو خود کنٹرول کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک ایسا تصور ہے جو انہیں زندگی بھر متاثر کرے گا اور انہیں اپنی مالی منزل تک پہنچنے میں مدد دے گا۔
| مالی تصور | بچوں کو سکھانے کا طریقہ | متوقع فائدہ |
|---|---|---|
| پیسوں کی قدر | جیب خرچ کی مقدار مقرر کرنا، خریداری میں شامل کرنا | ذمہ داری اور احترام کا احساس |
| بچت کی عادت | مقاصد کے ساتھ بچت، گلک کا استعمال، بینک اکاؤنٹ کا تعارف | مستقبل کے لیے تیاری، نظم و ضبط |
| بجٹ بنانا | آمدنی و خرچ کا رجسٹر، ضروریات اور خواہشات میں فرق | مالی کنٹرول، ہوشیار اخراجات |
| سرمایہ کاری کا تعارف | سود کا تصور، چھوٹے مشترکہ منصوبے | مالی ترقی کی سمجھ، طویل مدتی سوچ |
| خیرات اور ذمہ داری | مقرر خیرات، فلاحی دورے، حصہ داری | ہمدردی، معاشرتی شعور |
| ڈیجیٹل حفاظت | آن لائن خطرات، محفوظ لین دین کے اصول | سائبر فراڈ سے بچاؤ، ذمہ دار ڈیجیٹل صارف |
بات کو سمیٹتے ہوئے
مجھے امید ہے کہ اس بلاگ پوسٹ سے آپ کو بچوں کی مالی تعلیم کے حوالے سے کئی مفید باتیں سمجھ آئی ہوں گی۔ یاد رکھیں، یہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں صبر اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب ہم اپنے بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی مالی طور پر باشعور بناتے ہیں، تو ہم انہیں صرف اچھے فیصلے کرنا نہیں سکھاتے، بلکہ انہیں ایک مضبوط اور کامیاب مستقبل کی بنیاد بھی فراہم کرتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ آپ کے بچے مالی طور پر ایک خودمختار اور ذمہ دار زندگی گزاریں اور ہمیشہ دوسروں کے لیے بھی بہتر سوچیں۔
جاننے کے لیے مفید معلومات
1. اپنے بچوں کو ماہانہ جیب خرچ ضرور دیں اور انہیں سکھائیں کہ وہ اسے کیسے منظم کریں۔ یہ انہیں ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے اور عملی طور پر پیسوں کا انتظام کرنا سکھاتا ہے۔
2. بچت کے واضح اور قابل حصول مقاصد مقرر کرنے میں ان کی مدد کریں، جیسے کوئی کھلونا یا کتاب خریدنا، تاکہ ان میں بچت کی ترغیب پیدا ہو۔
3. ضروریات اور خواہشات کے درمیان فرق کو واضح طور پر سمجھائیں تاکہ وہ غیر ضروری اخراجات سے بچ سکیں اور اپنی ترجیحات کو سمجھیں۔
4. انہیں ایک سادہ آمدنی اور اخراجات کا رجسٹر بنانے میں مدد کریں تاکہ وہ اپنے مالی بہاؤ کو سمجھ سکیں اور بہتر بجٹ کی منصوبہ بندی کر سکیں۔
5. خیرات اور صدقہ کی اہمیت کو اجاگر کریں اور انہیں سکھائیں کہ دوسروں کی مدد کرنا بھی مالی ذمہ داری کا ایک اہم حصہ ہے، جو ان میں ہمدردی پیدا کرے گا۔
اہم باتوں کا خلاصہ
بچوں کی مالی تعلیم ان کے مستقبل کی کامیابی کے لیے ایک سنگ بنیاد ہے۔ اس کے تحت انہیں پیسوں کی قدر، بچت کی عادت، بجٹ سازی، اور سادہ سرمایہ کاری کے اصولوں سے آشنا کرایا جاتا ہے۔ ان تمام پہلوؤں کے ساتھ ساتھ، انہیں ڈیجیٹل دنیا میں مالی حفاظت اور دوسروں کے لیے خیرات کرنے کی اہمیت بھی سمجھانا ضروری ہے۔ یہ سب انہیں ایک مکمل اور ذمہ دار مالیاتی شخصیت بنانے میں معاون ثابت ہوگا، جس سے وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ معاشرے کے لیے بھی ایک مثبت کردار ادا کر سکیں گے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖
س: بچوں کو پیسے کے بارے میں سکھانا کب شروع کرنا چاہیے؟ کیا کوئی خاص عمر ہے؟
ج: میرے ذاتی تجربے کے مطابق، بچوں کو پیسے کی اہمیت اور اسے سمجھداری سے استعمال کرنے کے بارے میں سکھانے کی کوئی خاص عمر نہیں ہوتی، لیکن جتنی جلدی شروع کیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب بچے 3-4 سال کی عمر سے ہی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے بارے میں فیصلے کرنا شروع کرتے ہیں، جیسے کہ کون سی کھلونا خریدنا ہے یا اپنی پسندیدہ ٹافی کے لیے پیسے بچانا، تو ان میں مالی شعور کی بنیاد پڑ جاتی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے انہیں پڑھنا لکھنا سکھانا۔ پہلے ہم حروف اور الفاظ سکھاتے ہیں، پھر وہ جملے بنانا سیکھتے ہیں۔ اسی طرح، پہلے انہیں چھوٹی چھوٹی بچت اور خرچ کے بارے میں بتائیں، پھر انہیں بجٹ بنانے اور سرمایہ کاری جیسے بڑے تصورات کی طرف لے جائیں۔ یاد رکھیں، سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ خود ایک اچھا نمونہ بنیں اور اپنی مالی عادات سے انہیں متاثر کریں۔ جب وہ آپ کو بچت کرتے، سمجھداری سے خرچ کرتے دیکھیں گے، تو وہ خود بخود سیکھیں گے۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے جو ان کی پوری زندگی ان کے ساتھ رہے گا۔
س: بچوں کو بچت کی عادت ڈالنے کے لیے عملی طور پر کیا طریقے استعمال کیے جا سکتے ہیں؟
ج: بچوں کو بچت کی عادت سکھانا بظاہر مشکل لگ سکتا ہے، لیکن اگر اسے مزے دار اور عملی بنایا جائے تو یہ بہت آسان ہو جاتا ہے۔ میں نے کئی طریقے آزمائے ہیں اور ان میں سے کچھ جو بہت کارآمد ثابت ہوئے وہ یہ ہیں: سب سے پہلے، ایک ‘بچت کا ڈبہ’ یا ‘گلک’ خریدیں اور انہیں اس میں روزانہ یا ہفتہ وار کچھ پیسے ڈالنے کی ترغیب دیں۔ اس ڈبے کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: ایک حصہ بچت کے لیے، دوسرا حصہ خرچ کے لیے، اور تیسرا حصہ عطیہ یا کسی اچھے کام کے لیے۔ اس سے انہیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ پیسے کو کیسے تقسیم کیا جاتا ہے۔ دوسرا، انہیں ‘جیبی خرچ’ (pocket money) دینا شروع کریں۔ اس سے انہیں اپنی آمدنی کو سنبھالنے کا احساس ہوگا۔ میں نے تو اپنے بچوں کے ساتھ ایک چھوٹا سا ‘مالی چارٹ’ بھی بنایا تھا جہاں وہ اپنی بچت اور خرچ کو ریکارڈ کرتے تھے۔ انہیں چھوٹے چھوٹے مالی اہداف دیں، جیسے کہ “اگر تم اتنے پیسے بچاؤ گے تو ہم تمہاری پسند کی کتاب یا کھلونا خرید سکیں گے۔” جب وہ اپنے اہداف حاصل کریں گے، تو ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوگا اور بچت ان کے لیے ایک کھیل بن جائے گی۔ انہیں یہ بھی بتائیں کہ بچت صرف پیسے کی نہیں بلکہ بجلی اور پانی جیسے وسائل کی بھی ہوتی ہے۔
س: آج کل کی ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کو پیسے کے بارے میں کیسے سکھایا جائے جبکہ وہ اکثر اصلی پیسوں کو چھوتے بھی نہیں؟
ج: یہ بالکل ٹھیک سوال ہے! آج کی ڈیجیٹل دنیا میں جہاں ہر چیز بٹن دبانے سے ہو جاتی ہے، بچوں کو اصلی پیسے کی قدر سمجھانا ایک نیا چیلنج ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ میرے بچے جب آن لائن گیمز میں ورچوئل کوائنز خریدتے ہیں یا والدین کے فون پر آن لائن شاپنگ دیکھتے ہیں، تو انہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ اس کے پیچھے اصل پیسہ ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے جو طریقہ میں نے اپنایا ہے وہ یہ ہے کہ انہیں ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کے پیچھے چھپی اصل رقم سے آگاہ کریں۔ مثلاً، جب وہ آن لائن کوئی چیز خریدنے کی خواہش ظاہر کریں، تو انہیں بتائیں کہ اس چیز کی قیمت کتنے نوٹوں اور سکوں کے برابر ہے۔ انہیں بتائیں کہ آپ یہ رقم کمانے کے لیے کتنی محنت کرتے ہیں۔
ہم انہیں محفوظ طریقے سے آن لائن بینکنگ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بارے میں بھی سکھا سکتے ہیں۔ انہیں دکھائیں کہ بینک ایپ کیسے کام کرتی ہے (یقیناً آپ کی نگرانی میں)، اور بتائیں کہ پیسے کیسے آتے اور جاتے ہیں۔ کچھ بینک بچوں کے لیے خصوصی ڈیبٹ کارڈز بھی پیش کرتے ہیں جو والدین کنٹرول کر سکتے ہیں۔ یہ انہیں حقیقی دنیا کا تجربہ دیتا ہے اور انہیں ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔ انہیں بتائیں کہ ڈیجیٹل پیسہ بھی اصلی پیسے جتنا ہی قیمتی ہے اور اسے بھی احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے۔ یہ ایک موقع ہے کہ ہم انہیں مستقبل کی مالی دنیا کے لیے تیار کریں۔






