والدین اور بچوں کے دلوں کو جوڑنے کا جادو: بات چیت کے انمول گر

webmaster

부모와 자녀 간의 대화 개선 방법 - **Prompt:** A heartwarming scene of a Pakistani mother, in her mid-30s, wearing a modest yet elegant...

آج کل کے تیز رفتار دور میں، والدین اور بچوں کے درمیان تعلق کو مضبوط رکھنا ایک فن سے کم نہیں، ہے نا؟ میں نے اپنے بلاگ پر ہمیشہ دیکھا ہے کہ یہ موضوع کتنا اہم ہے۔ جہاں ٹیکنالوجی نے ہماری زندگیوں کو آسان بنایا ہے، وہیں کبھی کبھار یہ ہمارے پیاروں کے درمیان فاصلے بھی پیدا کر دیتی ہے۔ آج کل کے بچے، ان کی سوچ، ان کے مسائل سب کچھ بہت بدل چکا ہے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ جب ہم ان کی دنیا کو سمجھتے ہیں، تو بات چیت کے کئی نئے دروازے کھل جاتے ہیں۔ یہ صرف بولنے کی بات نہیں، بلکہ ایک دوسرے کو دل سے سننے اور سمجھنے کا نام ہے۔ اپنے بچوں کے ساتھ اس قیمتی رشتے کو کیسے مزید مضبوط بنایا جائے، آئیے ذیل میں تفصیل سے جانتے ہیں۔

부모와 자녀 간의 대화 개선 방법 관련 이미지 1

بچوں کی دنیا میں جھانکنا: ان کے جذبات کو سمجھنا

میرے خیال میں، والدین اور بچوں کے رشتے میں سب سے پہلی سیڑھی ان کی دنیا کو سمجھنا ہے۔ آج کل کے بچوں کے پاس سوچنے اور محسوس کرنے کے ہزاروں نئے طریقے ہیں جو شاید ہماری نسل میں نہیں تھے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب ہم اپنے بچپن کی کہانیاں سناتے ہیں، تو وہ دلچسپی سے سنتے تو ہیں، لیکن ان کے مسائل مختلف ہوتے ہیں۔ انہیں یہ سمجھانا ضروری ہے کہ ان کے احساسات، چاہے وہ خوشی کے ہوں یا دکھ کے، ہمارے لیے بہت اہم ہیں۔ کبھی کبھار بچے سیدھے منہ بات نہیں کرتے، لیکن ان کی آنکھیں، ان کا انداز، سب کچھ بتا دیتا ہے۔ مجھے یاد ہے جب میری بھانجی نے ایک بار کسی بات پر خاموشی اختیار کر لی تھی، مجھے لگا وہ ناراض ہے، لیکن جب میں نے اسے پیار سے گلے لگایا تو اس نے بتایا کہ اسے سکول میں ہوم ورک سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ بس یہی تو بات ہے، ہمیں ان کے اشاروں کو سمجھنا ہوگا۔ ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو سننا اور ان پر توجہ دینا، یہ انہیں احساس دلاتا ہے کہ وہ اہم ہیں۔ ان کی دوستیاں، ان کے کھیل، ان کی پسند و ناپسند، سب پر بات کریں، انہیں سکھائیں کہ اپنے جذبات کو الفاظ میں کیسے ڈھالنا ہے۔ میرے تجربے کے مطابق، یہ وہ بنیاد ہے جس پر آپ اعتماد کا ایک مضبوط مینار کھڑا کر سکتے ہیں۔ ان کے ساتھ رہنا، ان کی باتوں پر ہنسنا، ان کے دکھ میں شریک ہونا، یہ سب ایک مضبوط تعلق کی بنیاد ہیں۔

ان کی چھوٹی باتوں کو اہمیت دینا

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ بچے کتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش یا پریشان ہو جاتے ہیں؟ ایک نیا کھلونا، ایک کینڈی، یا دوست کا ایک مذاق۔ مجھے لگتا ہے کہ ان کی ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کرنا سب سے بڑی غلطی ہے۔ میرے بیٹے کو یاد ہے کہ وہ ایک بار اپنی گڑیا کے بال کٹوا کر کتنا پریشان تھا، حالانکہ مجھے وہ بہت معمولی بات لگی، لیکن اس کے لیے وہ ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔ میں نے اس وقت اسے تسلی دی اور اس کی پریشانی کو سمجھنے کی کوشش کی۔ یہی چھوٹی باتیں ہیں جو ان کو یہ اعتماد دیتی ہیں کہ والدین ان کے ہر مسئلے کو اہمیت دیتے ہیں۔ جب بچے دیکھتے ہیں کہ آپ ان کی چھوٹی باتوں پر بھی اتنی ہی توجہ دیتے ہیں جتنی کسی بڑی بات پر، تو ان کا آپ پر اعتماد بڑھتا ہے۔ اس طرح وہ اپنی زندگی کے بڑے مسائل بھی آپ کے ساتھ شیئر کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ انہیں یہ احساس دلانا کہ ان کی ہر بات اہمیت رکھتی ہے، یہ انہیں آپ کے قریب لاتا ہے۔

خاموشی کا پیغام سمجھنا

بچے ہمیشہ اپنی باتوں کو الفاظ میں بیان نہیں کرتے، خاص طور پر جب وہ پریشان یا خوفزدہ ہوں۔ ان کی خاموشی اکثر ایک چیخ ہوتی ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ میرے ایک دوست کا بچہ بہت ہنستا کھیلتا تھا، لیکن کچھ عرصے سے وہ بہت خاموش اور اکیلا رہنے لگا تھا۔ اس کی ماں پریشان ہو گئی اور اس نے مجھ سے مشورہ کیا۔ میں نے کہا کہ اس کی خاموشی کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ جب انہوں نے پیار سے اس کے ساتھ وقت گزارا اور اسے کھیلنے پر مجبور نہیں کیا بلکہ اس کے ساتھ بیٹھے رہے، تو ایک دن اس نے بتایا کہ سکول میں کوئی اسے تنگ کر رہا تھا۔ یہ خاموشی دراصل مدد کی پکار تھی۔ ہمیں اپنے بچوں کی آنکھوں، ان کے جسمانی اشاروں اور ان کی روزمرہ کی روٹین میں آنے والی تبدیلیوں پر نظر رکھنی چاہیے۔ کبھی کبھی ان کا اپنے کمرے میں زیادہ وقت گزارنا، یا کھانا پینا کم کر دینا، یہ سب کسی گہری بات کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔ یہ والدین کا کام ہے کہ وہ اس پیغام کو سمجھیں اور پیار سے بچوں کو بات کرنے پر آمادہ کریں۔

مصروف زندگی میں معیاری وقت نکالنا

آج کل کی زندگی اتنی تیز ہو گئی ہے کہ کبھی کبھی اپنے لیے بھی وقت نکالنا مشکل ہو جاتا ہے، بچوں کے لیے تو اور بھی زیادہ۔ لیکن میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ پیسے اور آرام کی بجائے، بچے والدین کا وقت چاہتے ہیں۔ یہ صرف گھنٹوں کی بات نہیں، بلکہ اس وقت کی ہے جو آپ انہیں مکمل توجہ کے ساتھ دیتے ہیں۔ ایک ساتھ کھانا کھانا، پارک میں چہل قدمی کرنا، یا بس گھر کے صحن میں بیٹھ کر باتیں کرنا، یہ سب وہ چھوٹے چھوٹے لمحات ہیں جو بچے ہمیشہ یاد رکھتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب میرے والد بہت مصروف ہوتے تھے، تب بھی وہ رات کو سونے سے پہلے مجھے ایک کہانی ضرور سناتے تھے۔ وہ پانچ منٹ کی کہانی مجھے آج بھی یاد ہے۔ یہ معیاری وقت ہی رشتوں میں مضبوطی لاتا ہے۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے کامیاب ہوں، لیکن کامیابی صرف تعلیمی یا مالی نہیں ہوتی۔ ایک خوش اور مطمئن بچہ بننا بھی ایک بڑی کامیابی ہے۔ اور اس کامیابی کی بنیاد والدین کے ساتھ گزارا ہوا معیاری وقت ہے۔ میں نے خود کوشش کی ہے کہ چاہے کتنا ہی تھکا ہوا کیوں نہ ہوں، بچوں کے ساتھ کچھ نہ کچھ وقت ضرور گزاروں، اور اس کا بدلہ مجھے ان کی ہنسی اور پیار کی صورت میں ملتا ہے۔

ایک ساتھ ہنسی مذاق اور کھیل

بچوں کے ساتھ کھیلنے اور ہنسی مذاق کرنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔ یہ نہ صرف آپ کے تعلق کو مضبوط بناتا ہے بلکہ بچوں کو یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ آپ ان کی دنیا کا حصہ ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ میری بھتیجی کو میرے ساتھ لوڈو کھیلنا کتنا پسند تھا، اور وہ اکثر مجھے ہرانے کے بعد فخر سے میری طرف دیکھتی تھی۔ وہ ہنسی، وہ جیت کا احساس، یہ سب اس کے لیے بہت قیمتی تھا۔ چاہے وہ کوئی بورڈ گیم ہو، یا بس گھر میں کرکٹ کھیلنا، یہ لمحات بچے کبھی نہیں بھولتے۔ اس دوران وہ کھل کر بات کرتے ہیں، ہنستے ہیں اور اپنے دل کی باتیں بھی بتا جاتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ہم ان کے اندر چھپے ہوئے بچے کو باہر نکال سکتے ہیں اور خود بھی اپنے اندر کے بچے کو زندہ کر سکتے ہیں۔ یہ صرف کھیل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑنے کا ایک خوبصورت طریقہ ہے۔ اس سے بچے ذہنی طور پر بھی صحت مند رہتے ہیں اور ان کا خود اعتمادی بھی بڑھتا ہے۔

کھانے کی میز پر دلی گفتگو

ہمارے معاشرے میں کھانے کی میز کا ہمیشہ سے ایک خاص مقام رہا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں خاندان کے سب افراد اکٹھے ہوتے ہیں اور دن بھر کی باتیں شیئر کرتے ہیں۔ میں نے اپنے گھر میں یہ اصول بنایا ہوا ہے کہ کھانے کے وقت کوئی موبائل فون یا ٹی وی نہیں چلے گا، صرف باتیں ہوں گی۔ یہ وہ قیمتی وقت ہوتا ہے جب بچے اپنے دن کے واقعات، سکول کے قصے، یا اپنے دوستوں کے بارے میں بتاتے ہیں۔ اور اس دوران والدین کو بھی انہیں سننا چاہیے اور ان کے ہر سوال کا جواب دینا چاہیے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار میری بیٹی نے کھانے کے دوران پوچھا کہ “امی، آپ بڑی ہو کر کیا بننا چاہتی تھیں؟” اس ایک سوال نے ایک لمبی اور دلچسپ گفتگو کا آغاز کر دیا، اور ہم سب نے اپنے بچپن کے خواب شیئر کیے۔ یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جو نہ صرف رشتوں کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ خاندان میں پیار اور اپنائیت کا احساس بھی پیدا کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسی عادت ہے جسے آپ بھی اپنے گھر میں اپنا کر دیکھیں۔

Advertisement

ٹیکنالوجی کا صحیح استعمال سکھانا اور اس کے ساتھ وقت گزارنا

آج کل کے بچے ٹیکنالوجی کے دور میں پیدا ہوئے ہیں، اور ہم اسے نظر انداز نہیں کر سکتے۔ موبائل فونز، ٹیبلیٹس اور انٹرنیٹ ان کی زندگی کا ایک حصہ بن چکے ہیں۔ لیکن والدین کا فرض ہے کہ وہ انہیں ٹیکنالوجی کا صحیح استعمال سکھائیں۔ یہ صرف ڈانٹنے یا روکنے کی بات نہیں، بلکہ انہیں گائیڈ کرنے کی بات ہے۔ میں نے اپنے بچوں کو ہمیشہ سمجھایا ہے کہ انٹرنیٹ ایک بڑی دنیا ہے جہاں بہت سی اچھی چیزیں بھی ہیں اور کچھ ایسی چیزیں بھی جو ان کے لیے ٹھیک نہیں۔ ان کے ساتھ بیٹھ کر گیمز کھیلنا، تعلیمی ویڈیوز دیکھنا، یا کوئی نئی چیز سیکھنا، یہ سب ٹیکنالوجی کو مثبت طریقے سے استعمال کرنے کا حصہ ہے۔ جب آپ خود ان کے ساتھ ان سرگرمیوں میں شریک ہوتے ہیں، تو ان پر ایک اچھا اثر پڑتا ہے اور وہ آپ کی باتوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب میں نے اپنے چھوٹے بھائی کو ایک نئے آن لائن گیم کے بارے میں سمجھایا تھا، تو وہ کتنا خوش ہوا تھا۔ اس نے نہ صرف مجھ سے بہت سی چیزیں سیکھیں بلکہ ہم دونوں کا رشتہ بھی مزید مضبوط ہوا۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم بچوں کو ڈیجیٹل دنیا میں اکیلا نہ چھوڑیں بلکہ ان کے ساتھ مل کر اسے دریافت کریں، انہیں صحیح راستے پر چلنے کی رہنمائی کریں۔

ڈیجیٹل دنیا میں رہنمائی کرنا

آج کل کے دور میں بچوں کو ڈیجیٹل دنیا میں رہنمائی کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ انٹرنیٹ پر ہر طرح کا مواد موجود ہے اور بچوں کو اس میں سے اچھے اور برے کی تمیز سکھانا بہت ضروری ہے۔ میرے تجربے کے مطابق، صرف موبائل چھین لینا یا انٹرنیٹ بند کر دینا حل نہیں ہے۔ ہمیں انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ کون سی ویب سائٹس محفوظ ہیں، کون سے ایپس ان کے لیے مفید ہیں اور آن لائن دوسروں کے ساتھ کیسے پیش آنا ہے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم ان کے ساتھ کھل کر بات کریں کہ سائبر بلنگ کیا ہوتی ہے، اور ذاتی معلومات کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرنی چاہیے۔ جب بچے آپ کو اپنا دوست سمجھتے ہیں، تو وہ آن لائن کسی بھی مسئلے کا سامنا کرنے پر آپ کے پاس آئیں گے۔ انہیں سکھائیں کہ ٹیکنالوجی ایک ٹول ہے، جسے اچھے کاموں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جیسے کہ علم حاصل کرنا، نئی چیزیں سیکھنا یا دوستوں سے بات کرنا۔

مشترکہ آن لائن سرگرمیاں

بچوں کے ساتھ ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال کرنے کا ایک اور بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ ان کے ساتھ مشترکہ آن لائن سرگرمیاں کریں۔ یہ ضروری نہیں کہ آپ ہر وقت ان کے ساتھ گیمز ہی کھیلتے رہیں۔ آپ ان کے ساتھ مل کر کوئی تعلیمی ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں، کوئی نئی زبان سیکھنے کی ایپ استعمال کر سکتے ہیں، یا پھر کسی آن لائن آرٹ کلاس میں حصہ لے سکتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے ایک بار اپنی بھتیجی کے ساتھ مل کر یوٹیوب پر ایک کوکنگ چینل دیکھا تھا اور اس کے بعد ہم نے مل کر ایک آسان سی ڈش بنائی تھی۔ یہ نہ صرف ایک تفریحی سرگرمی تھی بلکہ اس سے ہم دونوں کو بہت کچھ نیا سیکھنے کو ملا۔ یہ مشترکہ سرگرمیاں بچوں کو یہ احساس دلاتی ہیں کہ ٹیکنالوجی صرف تفریح کے لیے نہیں بلکہ علم حاصل کرنے اور نئے تجربات کرنے کے لیے بھی ہے۔ اس سے ان کا سکرین ٹائم بھی بامعنی بنتا ہے اور آپ کا ان کے ساتھ رشتہ بھی مضبوط ہوتا ہے۔

سننا ہی سب سے بڑی بات ہے: فعال سماعت کی اہمیت

میرے خیال میں، ہم والدین کے طور پر اکثر یہ غلطی کرتے ہیں کہ بچوں کی بات پوری طرح سننے سے پہلے ہی انہیں مشورہ دینا شروع کر دیتے ہیں یا ان کی بات کاٹ دیتے ہیں۔ لیکن سچ کہوں تو، بچوں کو سب سے زیادہ اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی انہیں بغیر کسی فیصلے کے سنے۔ فعال سماعت کا مطلب ہے کہ آپ پوری توجہ کے ساتھ، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر، اور جسمانی زبان کے ساتھ انہیں سنیں۔ انہیں یہ احساس دلائیں کہ آپ ان کی بات کو واقعی سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مجھے ایک واقعہ یاد ہے کہ میرے ایک دوست کا بچہ بہت ضد کر رہا تھا کہ اسے ایک کھلونا چاہیے جو اسے نہیں مل رہا تھا۔ جب اس کی ماں نے اسے ڈانٹا نہیں، بلکہ آرام سے بیٹھ کر پوچھا کہ تمہیں یہ کھلونا کیوں چاہیے، تو اس نے بتایا کہ اس کے دوست کے پاس بھی وہی کھلونا ہے اور اسے بھی وہ چاہیے۔ جب اس کی ماں نے اسے غور سے سنا اور اس کے احساسات کو سمجھا، تو اس نے خود ہی تسلیم کر لیا کہ اسے اس کی اتنی ضرورت نہیں۔ یہ سننا ہی تو ہے جو انہیں خود کو سمجھنے اور مسائل کا حل ڈھونڈنے میں مدد دیتا ہے۔

بنا فیصلہ کیے بچوں کی بات سننا

یہ سب سے مشکل کام ہوتا ہے، ہے نا؟ جب ہمارا بچہ کوئی ایسی بات بتاتا ہے جو ہمیں پسند نہیں آتی، تو فوراً غصہ آ جاتا ہے یا ہم اسے لیکچر دینا شروع کر دیتے ہیں۔ لیکن میں نے خود یہ بات آزمائی ہے کہ اگر آپ بچوں کی بات کو بنا کسی فیصلے یا تنقید کے سنتے ہیں، تو وہ آپ پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ انہیں یہ بتائیں کہ وہ جو بھی محسوس کر رہے ہیں، وہ ٹھیک ہے۔ ان کے جذبات کو قبول کریں۔ مثال کے طور پر، اگر بچہ کہتا ہے کہ اسے سکول جانا پسند نہیں، تو فوراً یہ نہ کہیں کہ “ایسی بات نہیں کرتے!” بلکہ پوچھیں کہ “کیوں بیٹا؟ کیا بات ہے جو تمہیں پریشان کر رہی ہے؟” جب وہ آپ کو اپنے دل کی بات بتا دیں، تو پھر آپ اسے مشورہ دے سکتے ہیں، لیکن پہلی ترجیح صرف سننا ہونا چاہیے۔ اس طرح وہ آپ کو اپنا سب سے بڑا رازدار سمجھیں گے، اور یہ ایک مضبوط رشتے کی بنیاد ہے۔

جسمانی زبان کو پڑھنا

بچے، خاص طور پر چھوٹے بچے، اپنی باتوں سے زیادہ اپنی جسمانی زبان سے بہت کچھ کہتے ہیں۔ جب وہ پریشان ہوتے ہیں تو کندھے جھکا لیتے ہیں، جب شرمندہ ہوتے ہیں تو نظریں چرا لیتے ہیں، اور جب خوش ہوتے ہیں تو ان کے چہرے پر چمک آ جاتی ہے۔ والدین کے طور پر ہمیں ان اشاروں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ میرے بھانجے کو یاد ہے کہ وہ ایک بار سکول سے آیا اور بہت ہی خاموش تھا۔ اس کی ماں نے دیکھا کہ اس کے کندھے جھکے ہوئے ہیں اور وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کر رہا۔ جب اس کی ماں نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور پوچھا کہ “کیا ہوا؟” تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اور اس نے بتایا کہ سکول میں کسی نے اس کے ساتھ بدتمیزی کی ہے۔ یہ جسمانی زبان کا ہی پیغام تھا جسے سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کے ساتھ اتنا جڑنا چاہیے کہ ہم ان کی جسمانی زبان کو پڑھ سکیں اور ان کی باتوں کو سمجھ سکیں۔

Advertisement

حدود اور آزادی: توازن قائم کرنا

والدین کے لیے یہ ہمیشہ ایک چیلنج رہا ہے کہ بچوں کو کتنی آزادی دی جائے اور کتنی حدود قائم کی جائیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک نازک توازن ہے جو رشتوں کو مضبوط بناتا ہے۔ اگر آپ بہت زیادہ سخت ہیں، تو بچے باغی ہو سکتے ہیں، اور اگر بہت زیادہ نرم ہیں، تو وہ بے راہ روی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ میرے تجربے کے مطابق، حدود کا ہونا بہت ضروری ہے، لیکن ان حدود کو پیار اور سمجھداری کے ساتھ طے کرنا چاہیے۔ بچوں کو یہ سمجھائیں کہ یہ اصول ان کی بھلائی کے لیے ہیں، نہ کہ انہیں قید کرنے کے لیے۔ انہیں ان اصولوں کو بنانے کے عمل میں بھی شامل کریں، تاکہ انہیں لگے کہ ان کی رائے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ مثال کے طور پر، جب سکرین ٹائم کے بارے میں اصول بنا رہے ہوں، تو بچوں سے پوچھیں کہ انہیں کیا لگتا ہے کہ کتنا وقت مناسب ہے؟ اس طرح وہ ان اصولوں کو زیادہ آسانی سے قبول کرتے ہیں۔ آزادی دینا بھی اتنا ہی ضروری ہے تاکہ وہ خود فیصلے کرنا سیکھیں اور اپنی غلطیوں سے سیکھیں۔ یہ انہیں مستقبل کے لیے تیار کرتا ہے۔

پیار سے اصول طے کرنا

اصول بنانا ضروری ہے، لیکن انہیں پیار سے اور سمجھداری کے ساتھ طے کرنا رشتوں کو مضبوط بناتا ہے۔ جب ہم غصے میں یا سختی سے کوئی اصول تھوپ دیتے ہیں، تو بچے اسے اپنا نہیں پاتے اور اکثر چھپ کر ان اصولوں کو توڑتے ہیں۔ اس کے بجائے، بچوں کے ساتھ بیٹھ کر آرام سے بات کریں کہ کون سے اصول ضروری ہیں اور ان کے پیچھے کیا وجوہات ہیں۔ انہیں بتائیں کہ یہ اصول ان کی حفاظت، ان کی صحت اور ان کی بہتر تربیت کے لیے ہیں۔ مثال کے طور پر، میرے گھر میں سونے کا ایک وقت مقرر ہے، اور میں نے اپنے بچوں کو سمجھایا ہے کہ وقت پر سونے سے انہیں کافی آرام ملے گا اور وہ اگلے دن سکول میں اچھا پرفارم کر سکیں گے۔ جب وہ اس کی وجہ سمجھتے ہیں، تو وہ زیادہ آسانی سے اسے قبول کرتے ہیں۔ یہ ان کے ساتھ ایک معاہدے کی طرح ہوتا ہے، جس میں دونوں فریقوں کی رائے شامل ہوتی ہے۔

غلطیوں سے سیکھنے کا موقع دینا

ہم سب انسان ہیں اور ہم سب غلطیاں کرتے ہیں۔ بچے بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ میرے خیال میں، والدین کو بچوں کو غلطیاں کرنے اور ان سے سیکھنے کا موقع دینا چاہیے۔ جب بچے کوئی غلطی کرتے ہیں، تو ہمارا پہلا ردعمل انہیں ڈانٹنا یا سزا دینا ہوتا ہے، لیکن اس کے بجائے اگر ہم انہیں یہ سکھائیں کہ اپنی غلطی کو کیسے سدھارنا ہے اور اس سے کیا سبق سیکھنا ہے، تو یہ ان کے لیے زیادہ مفید ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار میرے چھوٹے بھائی نے اپنی سائیکل چلاتے ہوئے ایک چھوٹا سا حادثہ کر دیا تھا، اور اس کا گھٹنا چھل گیا تھا۔ اس کی ماں نے اسے ڈانٹنے کے بجائے پیار سے اس کا علاج کیا اور اسے سمجھایا کہ آئندہ وہ سائیکل چلاتے وقت زیادہ احتیاط کرے۔ اس سے وہ ڈرا نہیں بلکہ اس نے سیکھا کہ احتیاط کتنی ضروری ہے۔ یہ بچوں کو خود اعتمادی دیتا ہے کہ وہ غلطیوں کے باوجود دوبارہ کوشش کر سکتے ہیں۔

طریقہ کار (Method) تفصیل (Description) مثال (Example)
فعال سماعت (Active Listening) بچوں کی بات کو پوری توجہ سے سننا، انہیں بیچ میں نہ روکنا اور ان کی بات سمجھنے کی کوشش کرنا۔ “بیٹا/بیٹی، میں سمجھتا/سمجھتی ہوں کہ تمہیں آج سکول میں اچھا نہیں لگا۔ مجھے بتاؤ کیا ہوا؟”
جذباتی تصدیق (Emotional Validation) بچوں کے جذبات کو قبول کرنا اور انہیں یہ احساس دلانا کہ ان کے جذبات اہم ہیں۔ “تمہیں غصہ آنا فطری بات ہے جب تمہارے دوست نے تمہاری بات نہیں مانی۔”
‘میں’ کے بیانات (‘I’ Statements) اپنے جذبات کا اظہار ‘میں’ سے شروع کرنا تاکہ الزام تراشی سے بچا جا سکے۔ “مجھے پریشانی ہوتی ہے جب تم دیر سے گھر آتے ہو اور مجھے بتاتے نہیں ہو۔”

تعریف اور حوصلہ افزائی: خود اعتمادی کی بنیاد

بچوں کی خود اعتمادی کو بڑھانے میں تعریف اور حوصلہ افزائی کا بہت بڑا کردار ہے۔ میرے تجربے کے مطابق، جب آپ بچوں کی چھوٹی چھوٹی کوششوں کو سراہتے ہیں، تو وہ مزید اچھا کرنے کی ترغیب محسوس کرتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ وہ کوئی بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیں، بلکہ ان کے ہر اچھے کام کو سراہیں۔ مثال کے طور پر، اگر بچہ اپنا کمرہ صاف کرتا ہے یا ہوم ورک وقت پر مکمل کرتا ہے، تو اسے “بہت اچھے!” یا “مجھے تم پر فخر ہے!” جیسے الفاظ سے سراہیں۔ یہ الفاظ انہیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ ان کی کوششیں قابل قدر ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب میری بیٹی نے پہلی بار اپنے کھلونے خود سے سمیٹے تھے، تو میں نے اسے دل کھول کر سراہا تھا، اور اس دن کے بعد سے وہ اکثر اپنا سامان خود ہی سمیٹ لیتی ہے۔ یہ تعریف انہیں نہ صرف خوش کرتی ہے بلکہ انہیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ان کے اچھے کاموں کا نوٹس لیا جاتا ہے۔ یہ انہیں مشکل حالات میں بھی ہار نہ ماننے کی ترغیب دیتا ہے۔

부모와 자녀 간의 대화 개선 방법 관련 이미지 2

چھوٹی کامیابیوں کو سراہنا

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ بچے کتنی محنت سے کوئی نئی چیز سیکھتے ہیں؟ ایک نیا لفظ بولنا، چلنا سیکھنا، یا سائیکل چلانا۔ یہ سب ان کے لیے بڑی کامیابیاں ہوتی ہیں۔ ہمیں ان کی ان چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کو کھل کر سراہنا چاہیے۔ جب بچے دیکھتے ہیں کہ ان کے والدین ان کی ہر کوشش کو سراہتے ہیں، تو ان میں مزید اچھا کرنے کی ہمت پیدا ہوتی ہے۔ میرے بھانجے کو یاد ہے کہ جب اس نے پہلی بار اپنے ہاتھ سے کھانا کھایا تھا، تو اس کی ماں نے کتنا شور مچایا تھا اور اسے گلے لگایا تھا۔ وہ دن اسے آج بھی یاد ہے۔ یہ چھوٹی تعریفیں ان کی خود اعتمادی کی بنیاد بنتی ہیں اور انہیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ یہ ایک قسم کی مثبت تقویت ہوتی ہے جو انہیں مستقبل میں مزید کامیابیاں حاصل کرنے کی طرف دھکیلتی ہے۔

ناکامی میں ساتھ دینا

زندگی میں کامیابی اور ناکامی دونوں ہی حصے ہیں۔ بچوں کو بھی کبھی کبھار ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب والدین کا ساتھ ان کے لیے سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ جب بچہ کسی امتحان میں اچھے نمبر نہیں لا پاتا یا کسی کھیل میں ہار جاتا ہے، تو اسے ڈانٹنے یا موازنہ کرنے کے بجائے، اسے تسلی دیں اور سمجھائیں کہ یہ سب زندگی کا حصہ ہے۔ انہیں بتائیں کہ ناکامی سے سیکھا جا سکتا ہے اور دوبارہ کوشش کی جا سکتی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار میری بیٹی ایک ڈرائنگ مقابلے میں ہار گئی تھی اور وہ بہت پریشان تھی، لیکن جب میں نے اسے گلے لگایا اور کہا کہ “تم نے اپنی پوری کوشش کی، اور یہی سب سے اہم ہے،” تو اسے بہت حوصلہ ملا۔ اگلے سال اس نے دوبارہ مقابلہ کیا اور جیت گئی۔ یہ والدین کا ساتھ ہی ہوتا ہے جو بچوں کو ناکامی کے بعد دوبارہ اٹھ کھڑا ہونے کی طاقت دیتا ہے۔

Advertisement

والدین کا اپنا خیال رکھنا: رشتہ پر اس کا اثر

کبھی کبھی ہم والدین، بچوں کی دیکھ بھال میں اتنے مگن ہو جاتے ہیں کہ اپنا خیال رکھنا بھول جاتے ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ اگر والدین خوش اور صحت مند ہوں گے، تو وہ بچوں کی بہتر دیکھ بھال کر سکیں گے۔ مجھے ذاتی طور پر ایسا لگا ہے کہ جب میں تھکی ہوئی یا پریشان ہوتی ہوں، تو میری بچوں کے ساتھ بات چیت پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔ بچوں کے سامنے ایک خوش، مطمئن اور پرسکون والدین کا ہونا ان کے لیے ایک مضبوط مثال پیش کرتا ہے۔ اپنے لیے وقت نکالنا، چاہے وہ کسی دوست سے ملنا ہو، کوئی کتاب پڑھنا ہو، یا بس کچھ دیر خاموشی میں بیٹھنا ہو، یہ بہت ضروری ہے۔ یہ آپ کو توانائی دیتا ہے اور آپ کو ایک بہتر والدین بننے میں مدد کرتا ہے۔ یہ کوئی خودغرضی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک سرمایہ کاری ہے جو آپ اپنے خاندان کے بہترین مستقبل کے لیے کرتے ہیں۔ جب آپ اپنا خیال رکھتے ہیں، تو آپ اپنے بچوں کو بھی یہ سکھاتے ہیں کہ اپنی جذباتی اور جسمانی صحت کا خیال رکھنا کتنا اہم ہے۔

جذباتی صحت کی دیکھ بھال

والدین کی جذباتی صحت کا بچوں پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ اگر والدین تناؤ یا پریشانی کا شکار ہوں، تو بچے بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ میں نے خود یہ محسوس کیا ہے کہ جب میں پرسکون ہوتی ہوں، تو بچے بھی زیادہ خوش اور پرسکون رہتے ہیں۔ اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اپنی جذباتی صحت کا خیال رکھیں۔ اگر آپ کو لگے کہ آپ بہت زیادہ تناؤ کا شکار ہیں، تو کسی دوست یا ماہر سے بات کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ نماز، یوگا یا کوئی بھی ایسی سرگرمی جو آپ کو پرسکون محسوس کرائے، اسے اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ اپنے جذبات کو تسلیم کریں اور انہیں سنبھالنے کے طریقے سیکھیں۔ جب آپ اپنی جذباتی صحت پر کام کرتے ہیں، تو آپ اپنے بچوں کو بھی ایک اچھا ماڈل فراہم کرتے ہیں کہ وہ اپنے جذبات کو کیسے سنبھالیں۔

اپنے لیے وقت نکالنا

روزمرہ کی مصروفیت میں اپنے لیے وقت نکالنا ایک چیلنج ہو سکتا ہے، لیکن یہ بہت ضروری ہے۔ یہ صرف خودغرضی نہیں بلکہ آپ کی پوری فیملی کے لیے فائدہ مند ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے ایک بار ہفتے میں ایک گھنٹہ اپنے لیے مخصوص کیا تھا، جس میں میں بس اپنی پسندیدہ کتاب پڑھتی تھی یا کوئی ہابی کرتی تھی۔ اس ایک گھنٹے نے مجھے اتنی تازگی بخشی کہ میں اگلے پورے ہفتے زیادہ بہتر طریقے سے اپنے فرائض انجام دے پاتی تھی۔ یہ وقت آپ کو ری چارج کرتا ہے اور آپ کو ذہنی طور پر زیادہ مضبوط بناتا ہے۔ جب آپ اپنے لیے وقت نکالتے ہیں، تو آپ زیادہ خوش اور مطمئن محسوس کرتے ہیں، اور یہ خوشی اور اطمینان آپ کے بچوں میں بھی منتقل ہوتا ہے۔ اپنے آپ کو اہمیت دینا بچوں کو بھی یہ سکھاتا ہے کہ خود کی دیکھ بھال کتنی اہم ہے۔

글을마치며

مجھے امید ہے کہ آج کی گفتگو نے آپ کو اپنے بچوں کی دنیا کو مزید قریب سے دیکھنے اور سمجھنے میں مدد کی ہوگی۔ یاد رکھیں، ہمارے بچے صرف ہماری ذمہ داری نہیں بلکہ ہماری زندگی کا سب سے خوبصورت تحفہ ہیں۔ ان کے ساتھ گزارا گیا ہر لمحہ، ان کی ہر چھوٹی بات کو سننا، اور انہیں پیار سے رہنمائی دینا، یہ سب ایک مضبوط، پیارے اور بھروسے مند رشتے کی بنیاد ہے۔ آپ کا اپنے بچوں کے ساتھ رشتہ جتنا گہرا ہوگا، وہ زندگی کی ہر مشکل کا سامنا اتنی ہی آسانی سے کر سکیں گے۔ آخر میں، بس یہی کہوں گی کہ انہیں بے انتہا پیار دیں، اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ وہ ہمارے لیے کتنے اہم ہیں۔

Advertisement

알아두면 쓸모 있는 정보

1. اپنے بچوں کی باتوں کو پوری توجہ سے سنیں، اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ ان کے جذبات کو سمجھا جا رہا ہے۔ ان کی بات کاٹنے یا انہیں فوری مشورہ دینے سے پہلے، انہیں پورا موقع دیں کہ وہ اپنی بات کہہ سکیں۔

2. روزانہ کم از کم 15-20 منٹ کا معیاری وقت اپنے بچوں کے ساتھ گزاریں، چاہے وہ ایک ساتھ کھانا ہو، کوئی کھیل کھیلنا ہو یا صرف باتیں کرنا ہو۔ یہ وقت ان کے ساتھ آپ کے تعلق کو مضبوط بناتا ہے۔

3. ٹیکنالوجی کو بچوں سے مکمل طور پر دور رکھنے کے بجائے، انہیں اس کا صحیح اور محفوظ استعمال سکھائیں، اور ان کے ساتھ مل کر تعلیمی یا تفریحی آن لائن سرگرمیوں میں شریک ہوں۔

4. گھر میں پیار سے کچھ واضح اصول اور حدود طے کریں، اور بچوں کو ان اصولوں کی وجہ سمجھائیں۔ جب وہ وجہ سمجھیں گے تو انہیں قبول کرنا آسان ہوگا۔

5. ان کی چھوٹی چھوٹی کوششوں اور کامیابیوں کو کھل کر سراہیں۔ یہ ان کی خود اعتمادی کو بڑھاتا ہے اور انہیں ناکامی کی صورت میں بھی حوصلہ دیتا ہے کہ وہ دوبارہ کوشش کریں۔

중요 사항 정리

بچوں کی دنیا کو سمجھنا اور ان کے ساتھ ایک مضبوط رشتہ قائم کرنا زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ان کی خاموشی کو سمجھنا، فعال سماعت کا مظاہرہ کرنا، ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال سکھانا، اور انہیں حدود کے ساتھ آزادی دینا ضروری ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہیں بے پناہ پیار، اعتماد اور حوصلہ دیں تاکہ وہ زندگی میں خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔ یاد رکھیں، والدین کی اپنی ذہنی اور جسمانی صحت کا خیال رکھنا بھی انہیں ایک بہتر والدین بننے میں مدد کرتا ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖

س: آج کل کے بچے، جو ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل دنیا میں پلے بڑھے ہیں، ان کی سوچ کو سمجھنا اور ان سے ایک گہرا تعلق کیسے قائم کیا جا سکتا ہے؟ میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے زمانے اور ان کے زمانے میں بہت فرق آ گیا ہے۔

ج: یہ بالکل صحیح سوال ہے اور مجھے خوشی ہے کہ آپ نے اس اہم نکتے کو اٹھایا۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ آج کے بچوں کی دنیا ہم سے بہت مختلف ہے۔ وہ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور آن لائن گیمز میں اس طرح ڈوبے ہوئے ہیں کہ کبھی کبھی ہمیں لگتا ہے جیسے وہ کسی اور سیارے کے باسی ہیں۔ لیکن یقین کیجیے، اصل میں ایسا نہیں ہے۔ میں نے اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزار کر یہ سیکھا ہے کہ ان کی بنیادی ضروریات، پیار، توجہ اور سمجھ ویسے ہی ہیں جیسے ہماری تھیں۔
اہم بات یہ ہے کہ آپ ان کی دنیا میں جھانکیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ آپ بھی ٹک ٹاک پر ناچنا شروع کر دیں، بلکہ یہ کہ ان کے پسندیدہ گیمز کے بارے میں پوچھیں، ان کی پسندیدہ یوٹیوبرز کو جاننے کی کوشش کریں۔ جب وہ کوئی نئی چیز سیکھیں تو ان سے کہیں کہ وہ آپ کو سکھائیں۔ یہ چھوٹا سا عمل ان کو یہ احساس دلائے گا کہ آپ ان کی چیزوں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ مجھے یاد ہے، ایک بار میں اپنے بیٹے کے ساتھ ایک گیم کھیلنے بیٹھی، میں تو دو منٹ میں ہار گئی، مگر اس کے چہرے پر جو مسکراہٹ تھی، وہ انمول تھی۔ اس سے ایک نیا مکالمہ شروع ہوا، اور ہم ایک دوسرے کے قریب آئے۔ بچوں کو سننا بہت ضروری ہے۔ ان کے خیالات کو اہمیت دیں، چاہے وہ کتنے بھی مختلف کیوں نہ لگیں۔ اس سے ان میں اعتماد پیدا ہوتا ہے اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی بات سنی جا رہی ہے۔ یہ ایک ایسا تعلق بناتا ہے جو صرف والدین اور اولاد کا نہیں، بلکہ دوستوں کا بھی ہوتا ہے۔

س: ٹیکنالوجی نے جہاں سہولتیں دی ہیں، وہیں والدین اور بچوں کے درمیان بات چیت میں رکاوٹیں بھی پیدا کی ہیں۔ اس ڈیجیٹل دور میں ہم اپنے بچوں سے مؤثر طریقے سے کیسے بات چیت کریں تاکہ وہ ہماری بات سنیں اور سمجھیں؟

ج: یہ واقعی ایک بہت بڑا چیلنج ہے، اور میں نے خود کئی بار اس کا سامنا کیا ہے۔ مجھے یاد ہے جب میرے بچے فون پر یا ٹیبلٹ پر ہوتے تھے، تو میری آواز ان تک پہنچنا مشکل ہو جاتی تھی۔ میں نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کچھ طریقے اپنائے ہیں جو میرے لیے کام کر گئے۔
سب سے پہلے تو، “ٹائم آؤٹ” کا اصول بنائیں۔ مراد یہ ہے کہ دن میں کچھ وقت ایسا ہو جب گھر میں سب اپنی ڈیوائسز ایک طرف رکھ دیں، چاہے وہ صرف آدھا گھنٹہ ہی کیوں نہ ہو۔ یہ وقت کھانے کے دوران یا شام کی چائے پر ہو سکتا ہے۔ میں نے یہ دیکھا ہے کہ جب کوئی ڈیوائس بیچ میں نہیں ہوتی، تو لوگ ایک دوسرے سے نظریں ملا کر بات کرتے ہیں۔
دوسرا، آپ کو ان کی زبان بولنا سیکھنا ہو گا۔ اگر وہ میمز یا ایموجیز کے ذریعے بات کرتے ہیں، تو آپ بھی کبھی کبھار ایسا کر سکتے ہیں تاکہ انہیں لگے کہ آپ بھی اس دنیا کا حصہ ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ صرف آن لائن ہی بات کریں، بلکہ فزیکل بات چیت کا متبادل نہیں ہے۔
اور سب سے اہم بات، صبر!
کبھی کبھی بچے فوراََ جواب نہیں دیتے یا ان کی توجہ بٹ جاتی ہے۔ ایسے میں غصہ کرنے کے بجائے، دوبارہ نرمی سے اپنی بات کہیں۔ میں نے اپنے تجربے سے دیکھا ہے کہ جب ہم ان کی مصروفیت کا احترام کرتے ہوئے صحیح وقت پر بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو ہماری بات زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔ جیسے جب وہ کوئی گیم ختم کر رہے ہوں یا ویڈیو دیکھ کر فارغ ہوئے ہوں۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہمارے تعلق کو مضبوط کرتی ہیں اور بچوں کو یہ احساس دلاتی ہیں کہ ہم ان کے ساتھ ہیں۔

س: والدین کے طور پر بچوں کی تربیت میں، ہمیں انہیں کس حد تک آزادی دینی چاہیے اور اپنی اتھارٹی کو کیسے برقرار رکھنا چاہیے؟ آج کل بچوں کو بہت زیادہ معلومات تک رسائی ہے، ایسے میں توازن کیسے قائم کریں؟

ج: یہ ایک نازک توازن ہے جسے برقرار رکھنا ہر والدین کے لیے ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ میں خود بھی کئی بار اس الجھن میں پڑی ہوں کہ کیا میں زیادہ سخت ہو رہی ہوں یا زیادہ نرم۔ لیکن میرے نزدیک، آزادی اور اتھارٹی کا بہترین امتزاج اعتماد پر مبنی ہے۔
جب ہم بچوں پر اعتماد کرتے ہیں اور انہیں حدود میں رہتے ہوئے فیصلے کرنے کی آزادی دیتے ہیں، تو وہ ذمہ داری لینا سیکھتے ہیں۔ میں نے اپنے بچوں کے ساتھ یہی اصول اپنایا ہے کہ انہیں کچھ چیزوں کا انتخاب کرنے دیں، جیسے کہ وہ اپنے کمرے کو کیسے سجانا چاہتے ہیں یا ویک اینڈ پر کون سا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں۔ اس سے انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی رائے اہم ہے۔
تاہم، اتھارٹی کو برقرار رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ہر بات پر ان کی مرضی مانیں۔ کچھ اصول ایسے ہونے چاہئیں جو غیر متزلزل ہوں۔ جیسے رات کو سونے کا وقت، پڑھائی کا وقت، یا ٹی وی دیکھنے کی حد۔ ان اصولوں کو واضح طور پر بیان کریں اور ان پر سختی سے عمل کروائیں۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان اصولوں کی وجہ سمجھائیں۔ جب بچے جانتے ہیں کہ کوئی اصول کیوں بنایا گیا ہے، تو وہ اسے زیادہ آسانی سے قبول کرتے ہیں۔ میں اکثر اپنے بچوں کو بتاتی ہوں کہ ان قواعد کا مقصد ان کی حفاظت اور بہتری ہے، نہ کہ انہیں قید کرنا۔ یاد رکھیں، آپ ان کے دوست ہو سکتے ہیں، لیکن سب سے پہلے آپ ان کے والدین ہیں اور ان کی رہنمائی کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ یہ توازن بچوں کو محفوظ اور خودمختار دونوں بناتا ہے۔

Advertisement