والدین اور اولاد کی مالی سمجھ بوجھ بڑھانے کے انمول راز جو آپ کو حیران کر دیں گے

webmaster

부모와 자녀 간의 재정적 이해 증진하기 - **Prompt**: "A joyful Pakistani child, approximately 7 years old, dressed in a modest shalwar kameez...

ہمارے گھروں میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو زندگی کے ہر پہلو کے لیے تیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تعلیم سے لے کر اخلاقی اقدار تک۔ لیکن ایک بہت ہی اہم گفتگو جو اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے، وہ ہے پیسوں کے بارے میں۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہمارے بچے مالی طور پر کتنے سمجھدار ہیں؟ یہ صرف جیب خرچ دینے کا معاملہ نہیں، بلکہ انہیں بچت، سرمایہ کاری اور ذمہ دارانہ خرچ کرنے کی اہمیت سکھانے کا ہے۔میں نے اپنی زندگی میں کئی بار دیکھا ہے کہ جب والدین اپنے بچوں سے مالی معاملات پر کھل کر بات نہیں کرتے، تو بڑے ہو کر انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آج کل کے ڈیجیٹل دور میں، جہاں آن لائن خریداری اور موبائل بینکنگ کا رجحان عام ہے، بچوں کو پیسوں کی قدر اور اس کے صحیح استعمال کے بارے میں بتانا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔ یہ انہیں مستقبل میں مالی طور پر مستحکم بنانے کی پہلی سیڑھی ہے۔میں نے خود یہ تجربہ کیا ہے کہ جب آپ اپنے بچوں کو چھوٹے چھوٹے مالی فیصلے کرنے کا موقع دیتے ہیں، تو وہ حیرت انگیز طور پر سیکھتے ہیں۔ انہیں صرف “نہیں” کہنے کی بجائے، یہ سمجھانا کہ پیسہ کیسے کمایا جاتا ہے اور کیسے بچایا جاتا ہے، انہیں ایک ذمہ دار شہری بناتا ہے۔ یہ انہیں نہ صرف عملی زندگی کے لیے تیار کرتا ہے بلکہ انہیں اعتماد بھی دیتا ہے کہ وہ اپنے فیصلوں پر قابو پا سکیں۔ یہ ایک ایسی مہارت ہے جو پوری زندگی ان کے کام آئے گی۔اس لیے، آئیے آج سے ہی اس موضوع پر بات چیت شروع کرتے ہیں اور اپنے بچوں کے ساتھ مل کر ایک مضبوط مالی بنیاد قائم کرتے ہیں۔ نیچے دی گئی تحریر میں، ہم اسی بارے میں مزید تفصیل سے جانیں گے اور کچھ ایسی کارآمد ٹپس پر بات کریں گے جو آپ کے اور آپ کے بچوں کے مالی تعلقات کو مزید بہتر بنا سکیں۔ آئیے ایک ساتھ مل کر ایک روشن مالی مستقبل کی طرف قدم بڑھاتے ہیں۔

부모와 자녀 간의 재정적 이해 증진하기 관련 이미지 1

بچوں کے مالی مستقبل کی بنیاد رکھنا: ابتدائی قدم

بچوں کو مالی معاملات کی سمجھ بوجھ دینا کوئی آسان کام نہیں ہے، لیکن میرے تجربے کے مطابق، یہ زندگی کے سب سے اہم اسباق میں سے ایک ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ والدین اکثر بچوں کو ریاضی، سائنس یا ادب سکھانے میں بہت محنت کرتے ہیں، لیکن پیسے کے بارے میں کھلی گفتگو سے کتراتے ہیں۔ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو یہ بتائیں کہ پیسہ کیسے کمایا جاتا ہے، اسے کیسے بچایا جاتا ہے اور اسے کیسے خرچ کیا جاتا ہے۔ جب میرا اپنا بچہ پہلی بار اپنی چھوٹی سی بچت سے کوئی کھلونا خریدنے گیا، تو اس کی آنکھوں میں جو چمک تھی وہ انمول تھی۔ اسے یہ احساس ہوا کہ اس نے اپنی محنت (جو میں نے اسے چھوٹے موٹے کاموں کے بدلے دی تھی) سے یہ چیز خریدی ہے۔ یہ ایک سادہ سا عمل تھا لیکن اس نے اسے مالی خود مختاری کا پہلا سبق دیا۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہمارے بچے صرف پیسہ کمانے کی دوڑ میں شامل نہ ہوں، بلکہ اسے عقلمندی سے استعمال کرنے کی سمجھ بھی رکھتے ہوں۔ یہ انہیں مستقبل میں کئی مشکلات سے بچا سکتا ہے۔ مالی تعلیم صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں ہے، بلکہ یہ زندگی کو ذمہ داری اور سمجھداری سے گزارنے کا طریقہ سکھاتی ہے۔

پیسے کی قدر کو سمجھنا

جب میں اپنے بچپن کو یاد کرتا ہوں، تو مجھے یاد ہے کہ میرے والدین نے کبھی مجھے کھل کر پیسے کی قدر نہیں سکھائی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں نے بڑی عمر میں جا کر بہت سی مالی غلطیاں کیں۔ آج میں اپنے بچوں کو ہر موقع پر یہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ پیسے درختوں پر نہیں اگتے۔ اس کے پیچھے محنت، وقت اور ذمہ داری ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، جب میرا بیٹا کوئی مہنگا ویڈیو گیم مانگتا ہے، تو میں اسے سیدھا انکار کرنے کی بجائے یہ سمجھاتا ہوں کہ اس گیم کی قیمت اتنے گھنٹے کی محنت کے برابر ہے۔ اس سے اسے اندازہ ہوتا ہے کہ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے کچھ قربانی دینی پڑتی ہے۔ یہ صرف پیسے کی بات نہیں، یہ وقت اور محنت کی قدر سمجھنے کی بھی بات ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ انہیں حقیقی دنیا کے لیے تیار کرتا ہے، جہاں ہر فیصلہ مالی پہلو رکھتا ہے۔

ابتدائی عمر سے ہی بچت کی عادت ڈالنا

بچت ایک ایسی عادت ہے جسے بچپن سے ہی ڈالنا چاہیے، اور مجھے اس بات پر بہت فخر ہے کہ میں نے اپنے بچوں میں یہ عادت ڈالی ہے۔ ہم نے ان کے لیے چھوٹے چھوٹے گلک (پگی بینک) رکھے ہیں جہاں وہ اپنا جیب خرچ یا ملنے والے تحفوں سے کچھ پیسے ڈالتے ہیں۔ میں انہیں بتاتا ہوں کہ یہ پیسے ان کے “مستقبل” کے لیے ہیں، چاہے وہ مستقبل ایک نیا کھلونا خریدنا ہو یا کوئی خاص چیز۔ ایک بار میری بیٹی ایک کتاب خریدنا چاہتی تھی جو اسے بہت پسند تھی، لیکن اس کے پاس پورے پیسے نہیں تھے۔ میں نے اسے بتایا کہ اگر وہ کچھ دنوں تک اپنا جیب خرچ بچائے گی تو وہ اسے خود خرید سکے گی۔ جب اس نے اپنی بچت سے وہ کتاب خریدی، تو اس کے چہرے پر جو خوشی تھی وہ قابل دید تھی۔ یہ چھوٹی چھوٹی کامیابیاں انہیں بچت کی اہمیت کا احساس دلاتی ہیں۔ یہ صرف پیسہ بچانا نہیں ہے، بلکہ صبر، خود پر قابو اور مستقبل کی منصوبہ بندی سیکھنا ہے۔

جیب خرچ کا انتظام: ذمہ داری کی پہلی سیڑھی

مجھے یاد ہے کہ جب میں چھوٹا تھا تو جیب خرچ کا انتظار کرتا رہتا تھا، اور جب ملتا تو فوراً اڑا دیتا۔ لیکن اب جب میں والدین کی کرسی پر بیٹھا ہوں، تو میں نے جیب خرچ کو صرف بچوں کو پیسے دینے سے زیادہ ایک موقع کے طور پر دیکھا ہے۔ جیب خرچ بچوں کو یہ سکھانے کا بہترین طریقہ ہے کہ وہ اپنے پیسوں کا انتظام کیسے کریں۔ میں نے اپنے بچوں کے لیے ایک ہفتہ وار جیب خرچ مقرر کیا ہے اور انہیں یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اسے اپنی مرضی سے خرچ کریں۔ شروع میں تو انہوں نے کافی غلطیاں کیں، کبھی سارا پیسہ ایک ہی دن میں خرچ کر دیا اور پھر باقی ہفتے پچھتاتے رہے، لیکن یہی تو سیکھنے کا عمل ہے۔ میں نے انہیں صرف راستہ دکھایا، مداخلت کم سے کم کی۔ انہیں خود اپنی غلطیوں سے سیکھنے دیا۔ ایک دفعہ میرے بیٹے نے اپنا سارا جیب خرچ چاکلیٹس پر خرچ کر دیا اور پھر اس کے پاس اپنے دوست کی سالگرہ کے لیے تحفہ خریدنے کو پیسے نہیں تھے۔ اس دن اس نے جو سبق سیکھا وہ شاید کسی لیکچر سے نہیں سیکھ سکتا تھا۔ یہ جیب خرچ ہی ہے جو انہیں عملی طور پر سکھاتا ہے کہ پیسے کی محدودیت کیا ہوتی ہے اور اسے کیسے ترجیح کے ساتھ خرچ کرنا چاہیے۔

جیب خرچ کے اصول بنانا

جیب خرچ کے معاملے میں کچھ اصول بنانا بہت ضروری ہے۔ میرے گھر میں ہم نے کچھ واضح اصول بنائے ہیں۔ سب سے پہلے، جیب خرچ ہفتے کے ایک خاص دن ہی ملتا ہے تاکہ وہ اس کا انتظار کرنا اور منصوبہ بنانا سیکھیں۔ دوسرا، انہیں ایک حصہ بچت کے لیے رکھنا ہوتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی کم کیوں نہ ہو۔ تیسرا، وہ اپنی مرضی سے اسے خرچ کر سکتے ہیں لیکن اگر وہ کسی چیز کے لیے زیادہ پیسے چاہتے ہیں تو انہیں خود اپنی محنت سے کمانے پڑیں گے، مثلاً گھر کے کچھ اضافی کام کرکے۔ یہ اصول انہیں ذمہ داری اور خود انحصاری سکھاتے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب بچے خود اپنے پیسوں سے کوئی چیز خریدتے ہیں تو انہیں اس کی زیادہ قدر ہوتی ہے بجائے اس کے کہ ہم انہیں ہر چیز آسانی سے فراہم کر دیں۔

خرچ کی منصوبہ بندی اور بجٹ کا تعارف

جیب خرچ بچوں کو بجٹ کا تصور سکھانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ میں انہیں اکثر ایک سادہ کاغذ پر اپنے خرچوں کی فہرست بنانے کی ترغیب دیتا ہوں۔ انہیں بتاتا ہوں کہ اگر ان کے پاس 500 روپے ہیں تو وہ اسے کیسے بانٹیں گے؟ کتنے بچت کے لیے، کتنے کسی فوری ضرورت کے لیے اور کتنے اپنی پسند کی چیز پر؟ شروع میں یہ مشکل لگتا ہے لیکن آہستہ آہستہ وہ اس کے عادی ہو جاتے ہیں۔ ایک دفعہ میری بیٹی نے ایک مہنگا کھلونا خریدنے کا فیصلہ کیا جو اس کے ہفتہ وار جیب خرچ سے کہیں زیادہ تھا۔ میں نے اسے ایک بجٹ پلان بنانے کو کہا اور سمجھایا کہ اسے کتنے ہفتے پیسے بچانے ہوں گے۔ اس نے صبر اور منصوبہ بندی سے وہ کھلونا خریدا اور اس کے چہرے پر جو فاتحانہ مسکراہٹ تھی وہ دیکھنے کے قابل تھی۔ یہ سب کچھ انہیں عملی دنیا کے لیے تیار کرتا ہے جہاں مالی منصوبہ بندی ہر قدم پر ضروری ہے۔

Advertisement

بچت کی اہمیت: چھوٹے اقدامات سے بڑے نتائج

ہم بچپن سے یہ سنتے آئے ہیں کہ “قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے” اور مالی معاملات میں یہ بات بالکل سچ ہے۔ بچت کی عادت بچپن سے ڈالنا نہ صرف انہیں مالی طور پر مضبوط بناتا ہے بلکہ ان میں صبر اور دور اندیشی جیسی صفات بھی پیدا کرتا ہے۔ میں نے خود یہ دیکھا ہے کہ جب میں نے اپنے بچوں کو چھوٹے چھوٹے اہداف کے لیے بچت کرنے کی ترغیب دی تو وہ کتنے پرجوش ہوئے۔ مثال کے طور پر، انہیں کسی خاص کھلونے یا کتاب کے لیے پیسے بچانے کا ٹاسک دینا۔ یہ انہیں ایک مقصد دیتا ہے اور جب وہ اپنے ہدف تک پہنچتے ہیں تو انہیں اپنی محنت کا پھل ملتا ہے۔ یہ صرف پیسے جمع کرنا نہیں، بلکہ اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کی تربیت ہے۔ ہماری ثقافت میں اکثر یہ ہوتا ہے کہ والدین بچوں کی ہر خواہش پوری کر دیتے ہیں، لیکن میرے خیال میں انہیں تھوڑا انتظار کروانا اور اپنی محنت سے چیزیں حاصل کرنے کا موقع دینا انہیں زیادہ مضبوط بناتا ہے۔ بچت دراصل مستقبل کی منصوبہ بندی اور غیر متوقع حالات کے لیے تیار رہنے کا نام ہے۔

بچت کے لیے اہداف مقرر کرنا

بچت کو دلچسپ بنانے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ بچوں کے لیے چھوٹے چھوٹے اہداف مقرر کیے جائیں۔ میں نے اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کے کچھ اہداف طے کیے ہیں، جیسے کہ ایک نیا پزل خریدنا، اپنی پسندیدہ کارٹون مووی کی سی ڈی لینا یا اپنے دوست کی سالگرہ کے لیے ایک اچھا سا تحفہ خریدنا۔ یہ اہداف انہیں ایک مقصد دیتے ہیں اور وہ انہیں حاصل کرنے کے لیے پرجوش ہوتے ہیں۔ میں انہیں ایک چارٹ بھی بنا کر دیتا ہوں جہاں وہ اپنی بچت کی پیشرفت کو نشان زد کرتے ہیں۔ جب وہ اپنے ہدف کے قریب پہنچتے ہیں تو ان کی خوشی دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔ یہ انہیں احساس دلاتا ہے کہ مستقل مزاجی اور صبر کا کتنا بڑا فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے انہیں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بڑے اہداف کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرکے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

بچت کے مختلف طریقے

بچت کے کئی طریقے ہیں اور بچوں کو یہ سب بتانا چاہیے۔ ہمارے گھر میں سب سے پہلے تو گلک کا استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، میں نے ان کے نام پر ایک چھوٹا سا بینک اکاؤنٹ بھی کھلوایا ہے، جہاں وہ اپنے کچھ پیسے جمع کرواتے ہیں۔ یہ انہیں بینکنگ کے نظام سے متعارف کرواتا ہے۔ میں انہیں بتاتا ہوں کہ بینک میں پیسے محفوظ رہتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ان میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔ یہ انہیں سود کے تصور سے بھی واقف کرواتا ہے (اگرچہ بہت ابتدائی سطح پر)۔ ایک اور طریقہ یہ ہے کہ جب انہیں کوئی تحفہ یا عیدی ملتی ہے، تو اس میں سے بھی کچھ حصہ بچت کے لیے مختص کیا جائے۔ یہ انہیں یہ سکھاتا ہے کہ ہر آمدنی کا کچھ حصہ بچانا ضروری ہے۔ یہ سب طریقے انہیں مالی معاملات میں عملی طور پر شامل کرتے ہیں اور انہیں ذمہ دارانہ فیصلے کرنے کی تربیت دیتے ہیں۔

سرمایہ کاری کی دنیا سے تعارف: مستقبل کے لیے بیج بونا

مجھے پتہ ہے کہ “سرمایہ کاری” کا لفظ سن کر بہت سے لوگ، اور خاص طور پر بچے، گھبرا جاتے ہیں۔ لیکن میرے تجربے میں، اسے سادہ الفاظ میں سمجھایا جا سکتا ہے اور سمجھانا چاہیے۔ یہ صرف بڑوں کا کھیل نہیں ہے، بلکہ یہ بچوں کو بھی مستقبل کے لیے تیار کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ میں اپنے بچوں کو یہ سکھاتا ہوں کہ پیسہ صرف خرچ کرنے یا بچانے کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ اسے بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہم ایک چھوٹا سا بیج بوتے ہیں اور وہ بڑا ہو کر درخت بن جاتا ہے۔ پیسہ بھی ایسے ہی بڑھتا ہے۔ میں نے خود یہ دیکھا ہے کہ جب بچے اس تصور کو سمجھ جاتے ہیں تو ان میں مالی آزادی کی ایک نئی سوچ پیدا ہوتی ہے۔ میں انہیں صرف سٹاک مارکیٹ یا بڑی سرمایہ کاری کے بارے میں نہیں بتاتا، بلکہ سادہ مثالوں سے سمجھاتا ہوں کہ ایک دکان دار کیسے اپنا پیسہ لگا کر زیادہ پیسے کماتا ہے۔ یہ انہیں کاروباری سوچ بھی دیتا ہے اور انہیں مالیاتی دنیا کے اہم اصولوں سے آگاہ کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی مہارت ہے جو انہیں زندگی بھر فائدہ دے گی۔

سادہ مثالوں سے سرمایہ کاری کو سمجھانا

بچوں کو سرمایہ کاری کا تصور سمجھانے کے لیے میں سادہ اور روزمرہ کی مثالیں استعمال کرتا ہوں۔ مثال کے طور پر، میں انہیں بتاتا ہوں کہ اگر ہم ایک چھوٹا سا پودا لگاتے ہیں، تو اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور وقت کے ساتھ وہ بڑا ہو کر پھل دیتا ہے۔ اسی طرح، جب ہم اپنا پیسہ کہیں لگاتے ہیں، تو وہ وقت کے ساتھ بڑھتا ہے۔ میں انہیں ایک سادہ اسٹاک گیم کھیلنے کی بھی ترغیب دیتا ہوں، جہاں وہ فرضی پیسوں سے مختلف کمپنیوں کے فرضی شیئرز خریدتے اور بیچتے ہیں۔ اس سے انہیں مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ اور سرمایہ کاری کے بنیادی اصولوں کا عملی تجربہ ہوتا ہے۔ میں انہیں یہ بھی بتاتا ہوں کہ تعلیم پر سرمایہ کاری سب سے بہترین سرمایہ کاری ہے، کیونکہ یہ ان کے مستقبل کو روشن بناتی ہے۔ یہ تمام مثالیں انہیں ایک پیچیدہ تصور کو آسانی سے سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔

طویل مدتی سوچ کی اہمیت

سرمایہ کاری کا ایک اہم پہلو طویل مدتی سوچ ہے۔ بچوں کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ کچھ چیزیں فوری فائدہ نہیں دیتیں بلکہ ان کا فائدہ وقت کے ساتھ ملتا ہے۔ میں انہیں اکثر یہ بات بتاتا ہوں کہ ہم جو پیسے آج بچاتے ہیں یا لگاتے ہیں، وہ دس سال بعد زیادہ قیمتی ہو سکتے ہیں۔ ایک دفعہ میرا بیٹا ایک کھلونا فوراً خریدنا چاہتا تھا لیکن اسے بتایا گیا کہ اگر وہ کچھ وقت انتظار کرے اور اس پیسے کو کسی اور چیز میں لگائے تو وہ مستقبل میں اس سے بھی بہتر کھلونا لے سکے گا۔ شروع میں اسے یہ بات سمجھ نہیں آئی لیکن جب وقت کے ساتھ اس نے اپنے پیسوں کو بڑھتے دیکھا تو اسے طویل مدتی سوچ کی اہمیت کا احساس ہوا۔ یہ صبر اور دور اندیشی کی تربیت ہے جو انہیں زندگی کے ہر شعبے میں کام آئے گی۔

Advertisement

آمدنی اور اخراجات کا حساب: بجٹ سازی کے عملی طریقے

مالیاتی تعلیم میں سب سے اہم سبق یہ ہے کہ اپنے پیسوں کو کیسے منظم کیا جائے۔ اور اس کے لیے بجٹ سے بہتر کوئی ٹول نہیں ہے۔ بجٹ صرف بڑے لوگوں کے لیے نہیں ہوتا؛ بچے بھی اس سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی بار اپنے بچوں کو ایک چھوٹے سے کاغذ پر اپنی آمدنی (جیب خرچ، عیدی وغیرہ) اور اخراجات (کھلونے، چاکلیٹس، اسکول کا سامان) لکھنے کو کہا تو وہ تھوڑے پریشان ہوئے۔ لیکن جب انہوں نے خود یہ دیکھا کہ ان کے پیسے کہاں جا رہے ہیں، تو ان کی آنکھیں کھل گئیں۔ یہ صرف حساب کتاب نہیں ہے، بلکہ یہ انہیں اپنے فیصلوں کا تجزیہ کرنا اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا سکھاتا ہے۔ میں نے کئی بار دیکھا ہے کہ جب بچے خود اپنا بجٹ بناتے ہیں تو وہ زیادہ ذمہ دار ہو جاتے ہیں اور غیر ضروری چیزوں پر پیسے خرچ کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ یہ انہیں ایک عملی ہنر دیتا ہے جو زندگی بھر ان کے کام آئے گا اور انہیں مالی مشکلات سے بچائے گا۔

آمدنی کے ذرائع کو پہچاننا

سب سے پہلے، بچوں کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ آمدنی کیا ہے اور اس کے مختلف ذرائع کیا ہو سکتے ہیں۔ میرے گھر میں، ان کی آمدنی میں ہفتہ وار جیب خرچ، عید یا سالگرہ پر ملنے والی عیدی، اور کبھی کبھار چھوٹے موٹے گھریلو کاموں کے بدلے ملنے والے پیسے شامل ہیں۔ میں انہیں بتاتا ہوں کہ یہ سب ان کی “آمدنی” ہے۔ اس سے انہیں یہ سمجھ آتی ہے کہ پیسہ کیسے حاصل ہوتا ہے۔ یہ انہیں محنت اور اس کے پھل کے درمیان تعلق بھی سکھاتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر وہ اپنے کمرے کی صفائی میں میری مدد کرتے ہیں، تو میں انہیں تھوڑا سا اضافی جیب خرچ دیتا ہوں۔ یہ انہیں کام کرنے اور اس کے بدلے انعام حاصل کرنے کی اہمیت سکھاتا ہے، جو کہ عملی زندگی میں بہت اہم ہے۔

اخراجات کو کنٹرول کرنا اور ترجیحات بنانا

جب ایک بار بچوں کو اپنی آمدنی کا پتہ چل جائے، تو اگلا قدم اخراجات کو کنٹرول کرنا اور ترجیحات بنانا ہے۔ میں انہیں ایک سادہ بجٹ شیٹ بنانے کی ترغیب دیتا ہوں جہاں وہ لکھتے ہیں کہ انہیں کن چیزوں پر پیسہ خرچ کرنا ہے۔ انہیں یہ سکھانا چاہیے کہ کون سی چیز “ضروری” ہے اور کون سی صرف “خواہش” ہے۔ مثال کے طور پر، اسکول کے لیے اسٹیشنری ضروری ہے، لیکن ہر روز چاکلیٹ خریدنا صرف ایک خواہش ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب بچے خود اپنی ترجیحات طے کرتے ہیں تو وہ زیادہ سمجھداری سے خرچ کرتے ہیں۔ یہ انہیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ جب آپ کے پاس وسائل محدود ہوں تو آپ کو کون سے فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ یہ ایک ایسی مہارت ہے جو بڑے ہو کر بھی ان کے بہت کام آئے گی۔

ڈیجیٹل مالیات کی پہچان: آن لائن لین دین اور حفاظت

آج کل کا دور ڈیجیٹل دور ہے۔ بچے موبائل فون اور انٹرنیٹ سے گھر کے کاموں سے لے کر خریداری تک ہر چیز کے لیے جڑے ہوئے ہیں۔ ایسے میں انہیں ڈیجیٹل مالیات کی بنیادی معلومات دینا انتہائی ضروری ہے۔ میرے تجربے کے مطابق، اگر ہم انہیں نہیں بتائیں گے تو وہ خود ہی سیکھیں گے، لیکن شاید غلط طریقے سے۔ اس لیے، یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انہیں آن لائن لین دین، موبائل بینکنگ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بارے میں صحیح طریقے سے تعلیم دیں۔ میں نے اپنے بچوں کو اپنے کریڈٹ کارڈ یا بینک اکاؤنٹ کی معلومات کسی کو نہ دینے کی سختی سے ہدایت کی ہے۔ میں انہیں سمجھاتا ہوں کہ آن لائن دنیا میں احتیاط کتنی ضروری ہے۔ یہ انہیں صرف مالی طور پر نہیں، بلکہ مجموعی طور پر محفوظ رہنے میں مدد دیتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ انہیں مستقبل کی دنیا کے لیے تیار کرتا ہے جہاں زیادہ تر مالی معاملات ڈیجیٹل ہوں گے۔

آن لائن خریداری اور احتیاط

부모와 자녀 간의 재정적 이해 증진하기 관련 이미지 2

بچوں کو آن لائن خریداری کے شوقین دیکھ کر مجھے بھی خوشی ہوتی ہے کہ وہ نئی ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی، میں انہیں ہمیشہ محتاط رہنے کی تلقین کرتا ہوں۔ میں انہیں سمجھاتا ہوں کہ وہ میری اجازت کے بغیر کبھی کوئی آن لائن خریداری نہ کریں۔ اس کے علاوہ، میں انہیں یہ بھی بتاتا ہوں کہ کسی بھی ویب سائٹ پر اپنی ذاتی معلومات جیسے کہ نام، پتہ یا فون نمبر دینے سے پہلے ہمیشہ مجھ سے پوچھیں۔ میں انہیں سکھاتا ہوں کہ کس طرح “سیکور” ویب سائٹس کو پہچانیں (جیسے کہ ‘https’ والی ویب سائٹس)۔ یہ انہیں سائبر فراڈ سے بچنے میں مدد دیتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک ایسا اہم سبق ہے جو انہیں ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ رہنے کے لیے بہت ضروری ہے۔

ڈیجیٹل ادائیگیوں کا صحیح استعمال

آج کل موبائل والٹس اور آن لائن بینکنگ اتنی عام ہو گئی ہے کہ بچے بھی انہیں دیکھ کر متاثر ہوتے ہیں۔ میں انہیں یہ سمجھاتا ہوں کہ ڈیجیٹل ادائیگی کے طریقے بہت آسان اور تیز ہیں، لیکن ان کا استعمال بہت احتیاط سے کرنا چاہیے۔ میں انہیں دکھاتا ہوں کہ میں کس طرح ایک ایپ کے ذریعے بل ادا کرتا ہوں یا پیسے بھیجتا ہوں، لیکن ساتھ ہی اس کی سیکورٹی کے بارے میں بھی بتاتا ہوں۔ انہیں یہ سمجھانا ضروری ہے کہ انہیں اپنے موبائل والٹ کا پاس ورڈ یا پن کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرنا چاہیے۔ میں نے اپنے ایک دوست کے بچے کو دیکھا تھا جو نادانی میں اپنے والدین کے فون سے آن لائن گیمز پر بہت سارے پیسے خرچ کر بیٹھا تھا۔ اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم انہیں شروع سے ہی یہ سب سکھائیں۔ یہ انہیں مالی طور پر بااختیار بناتا ہے لیکن ساتھ ہی ذمہ دارانہ استعمال کا درس بھی دیتا ہے۔

Advertisement

خاندانی مالی گفتگو: کیوں ضروری ہے اور کیسے کی جائے؟

میں نے اپنی زندگی میں یہ سیکھا ہے کہ گھر میں ہر موضوع پر کھلی گفتگو ہونی چاہیے، اور مالی معاملات بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ جب ہم اپنے بچوں سے پیسے کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہیں، تو ہم انہیں اعتماد دیتے ہیں اور انہیں اس بارے میں سوالات پوچھنے کا موقع دیتے ہیں۔ یہ صرف ایک یک طرفہ بات چیت نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ایک مکالمہ ہونا چاہیے جہاں وہ اپنی رائے بھی دے سکیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار جب ہمارے گھر میں کوئی بڑا خرچہ ہوا تو میں نے اپنے بچوں سے اس بارے میں بات کی اور انہیں بتایا کہ ہمیں کیسے اس کے لیے منصوبہ بندی کرنی پڑے گی۔ اس سے انہیں احساس ہوا کہ وہ بھی خاندان کا حصہ ہیں اور مالی فیصلوں میں ان کا بھی رول ہے۔ یہ انہیں نہ صرف مالی طور پر سمجھدار بناتا ہے بلکہ خاندان کے درمیان تعلقات کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی عادت ہے جو انہیں پوری زندگی فائدہ دے گی اور انہیں اپنے مالی مستقبل کے بارے میں زیادہ باخبر اور ذمہ دار بنائے گی۔

مالی معاملات پر کھل کر بات چیت

ہمارے معاشرے میں اکثر پیسوں کے بارے میں بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر بچوں کے سامنے۔ لیکن میرے خیال میں یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے۔ ہمیں اپنے بچوں سے مالی معاملات پر کھل کر بات کرنی چاہیے۔ میں اپنے بچوں کے ساتھ ہفتے میں ایک بار “فیملی منی ٹاک” سیشن رکھتا ہوں جہاں ہم بجٹ، بچت اور خرچوں پر بات کرتے ہیں۔ میں انہیں بتاتا ہوں کہ ہمارے مالی اہداف کیا ہیں اور ہم انہیں کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ انہیں یہ سکھاتا ہے کہ پیسہ صرف ایک ذریعہ ہے، اور اسے کیسے ذمہ داری سے استعمال کرنا ہے۔ اس سے انہیں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ والدین کس طرح محنت کرتے ہیں تاکہ گھر کی ضروریات پوری ہوں۔ اس قسم کی کھلی بات چیت انہیں مالیات کو ایک خوفناک یا پوشیدہ موضوع کی بجائے ایک معمول کا حصہ بنانے میں مدد دیتی ہے۔

مالیاتی فیصلوں میں بچوں کو شامل کرنا

بچوں کو چھوٹے مالیاتی فیصلوں میں شامل کرنا انہیں بہت کچھ سکھاتا ہے۔ مثال کے طور پر، جب ہم گروسری خریدنے جاتے ہیں، تو میں انہیں کچھ چیزوں کا بجٹ دیتا ہوں اور انہیں ان چیزوں کو خریدنے کا اختیار دیتا ہوں۔ یا جب ہم چھٹیوں پر جانے کا منصوبہ بناتے ہیں، تو میں انہیں کچھ پیسے بچانے کو کہتا ہوں تاکہ وہ اپنی پسند کی کوئی سرگرمی کر سکیں۔ اس سے انہیں احساس ہوتا ہے کہ ان کی رائے بھی اہمیت رکھتی ہے اور وہ اپنے فیصلوں کے نتائج خود دیکھتے ہیں۔ یہ انہیں اعتماد دیتا ہے اور انہیں مالی طور پر بااختیار بناتا ہے۔ یہ نہ صرف مالی تعلیم ہے بلکہ یہ انہیں عملی زندگی کے لیے تیار کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ چھوٹی چھوٹی شمولیتیں انہیں مستقبل میں بڑے مالی فیصلے کرنے میں مدد دیں گی۔

مالیاتی تصور بچوں کو سکھانے کا طریقہ نتیجہ
پیسے کی قدر جیب خرچ، چھوٹے موٹے کاموں کے بدلے ادائیگی محنت اور وسائل کی اہمیت کا احساس
بچت گلک، اہداف مقرر کرنا (کھلونا، کتاب) صبر، دور اندیشی، مستقبل کی منصوبہ بندی
بجٹ آمدنی اور اخراجات کی فہرست بنانا ذمہ دارانہ خرچ، ترجیحات کا تعین
سرمایہ کاری سادہ مثالیں، فرضی سٹاک گیم پیسے کو بڑھانے کا تصور، طویل مدتی سوچ
ڈیجیٹل مالیات آن لائن حفاظت، والدین کی نگرانی میں استعمال ڈیجیٹل دنیا میں مالی تحفظ اور احتیاط

مثبت مالیاتی رویے کی تشکیل: والدین کا کردار

بچوں کی مالیاتی تعلیم میں والدین کا کردار سب سے اہم ہے۔ وہ جو دیکھتے ہیں، وہی سیکھتے ہیں۔ اگر ہم خود غیر ذمہ دارانہ مالی رویہ اپنائیں گے تو بچے بھی وہی سیکھیں گے۔ میں نے ذاتی طور پر اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ میرے بچے میرے مالیاتی فیصلوں کو کتنی گہرائی سے دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔ اگر میں خود بچت کر رہا ہوں یا ذمہ داری سے خرچ کر رہا ہوں تو وہ بھی اس کی نقل کرتے ہیں۔ اس لیے، یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کے لیے ایک مثبت مالیاتی رول ماڈل بنیں۔ یہ صرف باتیں کرنے سے نہیں ہوتا، بلکہ ہمارے عمل سے ظاہر ہوتا ہے۔ ہمیں انہیں یہ سکھانا ہے کہ پیسہ خوشی خرید نہیں سکتا، لیکن یہ سکون اور تحفظ ضرور دیتا ہے۔ یہ انہیں نہ صرف ایک اچھے مالیاتی فیصلہ ساز بنائے گا بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں انہیں ایک ذمہ دار اور کامیاب فرد بنائے گا۔ میری ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کہ میں اپنے بچوں کو مالی طور پر اتنا مضبوط بناؤں کہ وہ کبھی کسی پر بوجھ نہ بنیں۔

خود ایک اچھا مالیاتی رول ماڈل بننا

مجھے لگتا ہے کہ بچوں کو مالیات سکھانے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ آپ خود ایک اچھا مالیاتی رول ماڈل بنیں۔ میں ہمیشہ اپنے بچوں کے سامنے اپنے مالی فیصلوں میں احتیاط اور منصوبہ بندی دکھاتا ہوں۔ جب میں کوئی بڑی خریداری کرتا ہوں، تو میں انہیں بتاتا ہوں کہ میں نے اس کے لیے کیسے بچت کی اور کیوں یہ ضروری ہے۔ میں انہیں اپنے بل ادا کرتے ہوئے بھی دکھاتا ہوں اور انہیں بتاتا ہوں کہ ذمہ داری سے اپنے فرائض ادا کرنا کتنا اہم ہے۔ ایک بار جب میری گاڑی خراب ہو گئی تو میں نے انہیں بتایا کہ کس طرح میری بچت نے اس مشکل وقت میں میری مدد کی۔ اس سے انہیں یہ احساس ہوا کہ بچت صرف ایک آپشن نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے۔ یہ سب انہیں عملی طور پر سکھاتا ہے کہ مالی نظم و ضبط کتنا ضروری ہے۔

غلطیوں سے سیکھنے کا موقع دینا

بچے غلطیاں کرتے ہیں، اور یہ ٹھیک ہے۔ ہمیں انہیں اپنی غلطیوں سے سیکھنے کا موقع دینا چاہیے۔ جب میرے بچے اپنے جیب خرچ سے کوئی ایسی چیز خرید لیتے ہیں جو بعد میں بیکار ثابت ہوتی ہے، تو میں انہیں ڈانٹتا نہیں، بلکہ انہیں اس کے نتائج سمجھاتا ہوں۔ میں انہیں بتاتا ہوں کہ انہوں نے ایک ایسی چیز پر پیسہ خرچ کر دیا جو ان کے کام نہیں آئی، اور اگلی بار انہیں زیادہ سوچ سمجھ کر خرچ کرنا چاہیے۔ ایک دفعہ میری بیٹی نے ایک مہنگی چاکلیٹ خرید لی جو اسے پسند نہیں آئی۔ اس دن اس نے بہت کچھ سیکھا کہ چیزیں صرف مہنگی ہونے سے اچھی نہیں ہو جاتیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے تجربات انہیں بڑے اور ذمہ دارانہ مالی فیصلے کرنے کی تربیت دیتے ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انہیں راستہ دکھائیں، لیکن انہیں خود چلنے کا موقع بھی دیں۔ یہ انہیں ایک مضبوط اور خود مختار انسان بنائے گا۔

Advertisement

اختتامی کلمات

تو میرے پیارے دوستو، آپ نے دیکھا کہ بچوں کو مالیات کی تعلیم دینا کتنا ضروری ہے۔ یہ صرف پیسے کی بات نہیں، یہ انہیں زندگی کے بڑے سبق سکھانے، انہیں ذمہ دار بنانے اور ایک روشن مستقبل کی طرف رہنمائی کرنے کی بات ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر ہم آج اپنے بچوں کو یہ بنیادی ہنر سکھا دیں، تو وہ کل ایک مضبوط اور کامیاب انسان بن کر ابھریں گے۔ اس سفر میں شاید آپ کو کچھ مشکلیں پیش آئیں، لیکن یاد رکھیں، ہر چھوٹی کوشش ایک بڑے فرق میں بدل سکتی ہے۔ بس ثابت قدم رہیں اور اپنے بچوں کو خود مختار مالیاتی فیصلے کرنے کی ترغیب دیں۔

کارآمد معلومات جو آپ کو معلوم ہونی چاہیے

1. مالی تعلیم کا سفر بچپن سے شروع کریں، چاہے بچے کتنے ہی چھوٹے کیوں نہ ہوں۔
2. اپنے بچوں کے لیے خود ایک مثبت مالیاتی رول ماڈل بنیں، کیونکہ وہ آپ کو دیکھ کر سیکھتے ہیں۔
3. جیب خرچ کو ذمہ داری سکھانے کا ایک بہترین ذریعہ بنائیں اور انہیں اپنے فیصلوں کی آزادی دیں۔
4. بچت کو ایک کھیل بنائیں اور چھوٹے اہداف مقرر کریں تاکہ بچے اسے دلچسپی سے سیکھیں۔
5. آن لائن لین دین اور ڈیجیٹل مالیات کی حفاظت کے بارے میں انہیں ابتدائی عمر سے ہی آگاہ کریں۔

Advertisement

اہم نکات کا خلاصہ

اس پوری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ بچوں کو پیسے کی قدر، بچت کے طریقے، بجٹ بنانا، سرمایہ کاری کے بنیادی تصورات اور ڈیجیٹل مالیات کی حفاظت سکھانا نہایت ضروری ہے۔ ہمیں انہیں ان کے مالی مستقبل کے لیے تیار کرنا ہے تاکہ وہ نہ صرف اپنی ضروریات پوری کر سکیں بلکہ خود مختار اور ذمہ دار فیصلے بھی کر سکیں۔ خاندانی سطح پر مالی معاملات پر کھل کر بات چیت کرنے سے تعلقات مضبوط ہوتے ہیں اور بچوں میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ یاد رکھیں، آپ کی رہنمائی اور صبر ان کے مالیاتی سفر میں سب سے بڑا اثاثہ ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖

س: آج کے ڈیجیٹل دور میں بچوں کو پیسوں کے بارے میں سکھانا اتنا اہم کیوں ہو گیا ہے؟

ج: دیکھیے، میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ آج کل ہر چیز کتنی تیزی سے بدل رہی ہے۔ جب ہم بچے تھے تو گلی محلے کی دکان سے چیزیں خریدتے تھے اور پیسوں کو ہاتھ میں محسوس کرتے تھے۔ مگر اب تو سب کچھ ایک کلک پر ہے، چاہے وہ آن لائن شاپنگ ہو یا موبائل بینکنگ۔ بچے ٹیبلٹ پر گیم کھیلتے ہوئے بھی سیکڑوں روپے خرچ کر دیتے ہیں اور انہیں اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ یہ حقیقی پیسے ہیں۔ اگر ہم انہیں شروع سے ہی پیسوں کی اہمیت، بچت کرنے کا طریقہ، اور ذمہ داری سے خرچ کرنا نہیں سکھائیں گے، تو وہ بڑے ہو کر بہت سی مالی مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں۔ میں نے ایسے کئی نوجوان دیکھے ہیں جو کمائی تو اچھی کر لیتے ہیں لیکن پیسے سنبھالنا نہیں جانتے اور ہمیشہ پریشان رہتے ہیں۔ اس لیے، یہ صرف جیب خرچ دینے کا معاملہ نہیں، بلکہ انہیں مستقبل کے لیے ایک مضبوط مالی بنیاد فراہم کرنے کا سوال ہے۔ یہ انہیں ہر طرح کی آن لائن دھوکہ دہی اور غیر ضروری خرچ سے بچائے گا اور ایک خودمختار مالی زندگی کی طرف ان کا پہلا قدم ہوگا۔

س: والدین اپنے بچوں کو پیسوں کی قدر سکھانے کے لیے عملی طور پر کیا اقدامات کر سکتے ہیں؟

ج: یہ ایک بہت ہی اہم سوال ہے اور میں نے اپنے تجربے سے یہ سیکھا ہے کہ عملی تربیت کا کوئی نعم البدل نہیں۔ سب سے پہلے تو، اپنے بچوں کو جیب خرچ ضرور دیں، لیکن اس کے ساتھ کچھ ذمہ داریاں بھی سونپیں۔ مثلاً، انہیں بتائیں کہ یہ پیسے پورے ہفتے کے لیے ہیں، اور اگر وہ کوئی چیز خریدنا چاہتے ہیں تو انہیں بچت کرنی ہوگی۔ آپ انہیں ایک چھوٹے سے گُلک میں پیسے جمع کرنے کی عادت ڈالیں۔ انہیں بتائیں کہ یہ پیسے کسی خاص مقصد کے لیے ہیں، جیسے ان کا پسندیدہ کھلونا یا کوئی کتاب۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب بچے خود اپنے پیسوں سے کچھ خریدتے ہیں، تو انہیں اس کی زیادہ قدر ہوتی ہے۔ دوسرا، انہیں کمانے کے چھوٹے موٹے طریقے سکھائیں۔ مثلاً، گھر کے چھوٹے موٹے کام کرنے پر انہیں انعام کے طور پر تھوڑے پیسے دیں۔ اس سے انہیں محنت کی قدر کا اندازہ ہوگا۔ تیسرا، انہیں بجٹ بنانے کی بنیادی باتیں سکھائیں۔ انہیں دکھائیں کہ ایک محدود رقم سے اپنی ضروریات اور خواہشات کو کیسے پورا کیا جاتا ہے۔ یقین مانیے، یہ چھوٹے چھوٹے قدم انہیں بڑے ہو کر بہترین مالی فیصلے کرنے میں مدد دیں گے۔

س: بچوں کے ساتھ مالی گفتگو کو دلچسپ اور دوستانہ کیسے بنایا جا سکتا ہے تاکہ انہیں بوجھ نہ لگے؟

ج: ہائے! یہ وہ جگہ ہے جہاں میرا اپنا تجربہ بہت کام آتا ہے۔ ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ پیسوں کی بات سنجیدہ ہی ہونی چاہیے، لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ بچوں کو مالیات سکھانے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ انہیں لیکچر دینا شروع کر دیں۔ اس کے بجائے، اسے ایک کھیل، ایک کہانی، یا ایک خاندانی سرگرمی بنائیں۔ مثال کے طور پر، جب آپ گروسری کی خریداری پر جاتے ہیں، تو انہیں اپنے ساتھ لے جائیں اور انہیں مختلف چیزوں کی قیمتوں کا موازنہ کرنے کا موقع دیں۔ انہیں پوچھیں کہ کون سی چیز سستی ہے اور کیوں؟ یا پھر، گھر کے لیے کوئی بڑا خرچ کرنے سے پہلے، انہیں فیملی میٹنگ میں شامل کریں اور ان سے رائے لیں۔ انہیں بتائیں کہ آپ کیسے بچت کر رہے ہیں یا کس چیز پر پیسہ خرچ کر رہے ہیں۔ میں نے تو اپنے بچوں کے ساتھ چھوٹے چھوٹے مالیاتی گیمز بھی کھیلے ہیں جو انہیں بہت پسند آتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ آپ کا رویہ دوستانہ اور کھلا ہو۔ انہیں کبھی یہ محسوس نہ ہونے دیں کہ ان کے سوالات بے وقوفانہ ہیں۔ جب انہیں لگے گا کہ وہ کھل کر بات کر سکتے ہیں، تو وہ خود ہی مزید سیکھنے میں دلچسپی لیں گے اور یوں ایک صحت مند مالی تعلق قائم ہو جائے گا۔